خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 212

$1956 212 خطبات محمود جلد نمبر 37 مِن قَبْلِكُمْ - یعنی اے مومنو! تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزے رکھنے اُسی طرح فرض کی کیے گئے ہیں جس طرح پہلی امتوں پر روزے رکھنے فرض کیے گئے تھے۔اس آیت سے پتا لگتا ہے ہے کہ جس طرح مسلمانوں پر روزے رکھنے فرض ہیں اسی طرح عیسی کی امت پر بھی فرض تھے ، موسق کی امت پر بھی فرض تھے، ابراہیم کی امت پر بھی فرض تھے اور نوح کی امت پر بھی فرض تھے۔اسی طرح اور انبیاء جو مختلف اوقات میں دنیا میں گزرے ہیں اُن کی امتوں پر بھی فرض تھے۔پس یہ ایک ایسا روحانی ترقی کا ذریعہ ہے جو سب نبیوں میں مشترک طور پر نظر آتا ہے اور تمام امتیں روزوں سے برکتیں حاصل کرتی رہی ہیں۔لیکن اسلام کو دوسرے مذاہب پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ تمام مذاہب کا جامع ہے۔یعنی پہلے تمام نبیوں کی خوبیاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں جمع ہیں بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر خوبیاں آپ میں پائی جاتی ہیں۔اور پہلے سارے مذاہب کی خوبیاں اسلام میں جمع ہیں بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر خوبیاں اسلام میں پائی جاتی ہیں۔اور پہلی ساری الہامی کتابوں کی اچھی تعلیمیں قرآن کریم میں جمع ہیں بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر اچھی تعلیمیں قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔پس مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان ایام میں روزوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں کیونکہ یہ ان کا اپنا مال ہے اور باقی مذاہب نے ظلی طور پر اس تعلیم کو حاصل کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدم ابھی پانی اور مٹی میں تھے کہ خدا نے مجھے خاتم النبین بنا دیا تھا۔4- پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ روحانی طور پر تمام انبیاء ہوئے ہیں اس لیے پہلے نبیوں کو جو بھی اچھی تعلیمیں ملی ہیں در حقیقت ظلّی طور پر ہیں کیونکہ وہ تمام تعلیمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھیں۔پس ان کی کتابوں میں اگر کوئی اچھی تعلیم پائی جاتی ہے تو وہ ہمارا مال ہے۔اگر آدم نے کوئی اچھی بات بیان کی ہے نوح نے کوئی اچھی بات بیان کی ہے یا ابراہیم کے صحف میں کوئی اچھی تعلیم ہے یا موسق کی کتاب میں کوئی اچھی تعلیم ہے یا دائڈ کی زبور میں کوئی اچھی تعلیم ہے یا حز قیل" کے صحیفوں میں کوئی اچھی تعلیم ہے یا مسیح کی انجیل میں کوئی اچھی تعلیم ہے تو درحقیقت وہ سب مال مسلمان کا ہی ہے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: كَلِمَةُ الحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِن