خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 207

$1956 207 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو تمہارے دوسرے بھائی کی حق تلفی ہوتی ہے تو جب تک تم پورا زور نہ لگاؤ کہ اُسے اُس کا حق مل جائے اُس وقت تک تم سچے مومن نہیں کہلا سکتے۔کیونکہ ایمانِ کامل کی علامت ہی یہی ہے کہ دل ایک دوسرے کی محبت سے پر ہوں۔اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے کہ ہم نے تمہارے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا ہے اور تم میں باہم محبت اور اخوت پیدا کی کر دی ہے۔اور یہ ایسی چیز ہے کہ اگر تم ساری دنیا کے اموال خرچ کر کے بھی اُسے حاصل کرنا چاہتے تو نہ کر سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کسی قوم میں یہ خوبی پیدا ہو جائے کہ اُس کے افراد ایک دوسرے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہوں اور انہیں اپنے مفاد سے اپنے بھائیوں کا مفاد زیادہ عزیز ہو تو اُس کا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔وہ تھوڑے ہوتے ہوئے بھی دوسروں پر غالب آ جاتے ہیں اور کمزور ہوتے ہوئے بھی بڑے بڑے طاقتوروں کو بھگا دیتے ہیں۔ایک دفعہ سرگودھا کے ایک گاؤں میں لڑائی ہوئی۔اُس میں احمدی صرف تین تھے اور اُن کے مقابلہ میں سارا گاؤں تھا مگر تین آدمیوں نے سارے گاؤں کو بھگا دیا۔مجھے جب یہ خبر پہنچی تو میں نے پوچھا کہ صرف تین آدمیوں نے سارے گاؤں کو کس طرح بھگا دیا؟ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں نے باہر نکل کر ہمیں مقابلہ کے لیے للکارا اور کہا کہ کوئی احمدی ہے تو ہمارے مقابلہ میں آجائے تو ہم تینوں اُن کے مقابلہ میں نکل کھڑے ہوئے اور اس طرح مقابلہ کیا کہ سارا گاؤں بھاگ کھڑا ہوا۔اور ہم اُس وقت تک واپس نہ آئے جب تک کہ انہوں نے اپنے گھروں میں داخل ہو کر گنڈیاں نہ لگا لیں۔بلکہ اس کے بعد گاؤں کے بڑے بڑے آدمی ہمارے پاس آئے۔وہ ہمارے آگے ہاتھ جوڑتے اور منتیں کرتے کہ ہم پر پھر حملہ نہ کرنا۔اسی طرح ایک اور گاؤں میں صرف دس احمدی تھے۔مگر جب لوگوں نے مخالفت کی تو وہ دس آدمی گاؤں کے گاؤں کو شکست دے کر آگئے۔یہ ایمان اور سلسلہ کی محبت کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کے لیے اکٹھے ہو گئے۔اگر ان کے دلوں میں ایمان نہ ہوتا تو اتنی جرات ان میں کس طرح پیدا ہوتی۔