خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 187

خطبات محمود جلد نمبر 37 187 $1956 یہ بات بھی میں افسوس سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ میری نظر خدا تعالیٰ کے فضل سے کمزور نہیں مگر زیادہ دیر تک پڑھنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے۔گو اس وجہ سے کہ مجھے قرآن کریم کے پڑھنے کی عادت ہے اب بھی میں ڈیڑھ پونے دو بلکہ دو سپارے بھی روزانہ پڑھ لیتا ہوں لیکن جن چیزوں کی عادت نہیں ان کا پڑھنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے۔جمعہ کا خطبہ پہلے میں خود دیکھا کرتا تھا مگر پھر اپنی بیماری کی وجہ سے میں نے کہہ دیا کہ محکمہ اپنی ذمہ داری پر شائع کر دیا کرے۔لیکن پچھلے جمعہ کا خطبہ میں نے منگوا کر دیکھا تو مجھے تعجب ہوا کہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا ایک واقعہ لکھنے میں پوری احتیاط سے کام نہیں لیا گیا تھا۔میں نے بیان کیا تھا کہ جب آٹھم کی پیشگوئی کا آخری دن آیا تو ایک احمدی پٹھان کی زور زور سے رونے اور چیچنیں مارنے کی آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ یا اللہ! اپنے مسیح کو سچا کر دے۔یا اللہ ! آج دن ختم نہ ہو جب تک کہ آتھم مر نہ جائے مگر میں نے خطبہ دیکھا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ ایک شخص روتے اور چیچنیں مارتے ہوئے یہ کہتا چلا جا رہا تھا کہ یا اللہ ! اپنے مسیح کو سچا کر دے۔یا اللہ ! آج دن ختم نہ ہو جب تک کہ آتھم مر نہ جائے۔گویا گلی میں سے کسی ہندو یا سکھ کی آوازیں آ رہی تھیں حالانکہ یہ ایک احمدی پٹھان کا ذکر تھا اور میں نے کہا تھا کہ جس جگہ حضرت خلیفہ اول مطب کیا کرتے تھے اُس کے ساتھ ایک کمرہ تھا جس میں مہمان ٹھہرا کرتے تھے۔اُس میں ایک جوشیلا احمدی پٹھان رہتا تھا۔اُس نے بعض دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ یا اللہ ! اپنے مسیح کو جھوٹا ہی نہ کیجئیو۔یا اللہ ! آج دن ختم نہ ہو جب تک کہ آتھم مر نہ جائے مگر اس کو غلط رنگ میں لکھ دیا گیا۔اسی طرح جلسہ سالانہ کی ایک تقریر کے متعلق شکایت آئی ہے کہ اُس میں ایک ایسی بات لکھ دی گئی جس کی وجہ سے غیر احمدیوں نے اعتراضات کیے اس کے بعد میں اپنے ایک رؤیا کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو حال ہی میں میں نے دیکھا ہے۔گو میں نے اپنے ایک خطبہ میں کہا تھا کہ غیر مامورین کے لیے اپنی خوابوں کا بیان کرنا ضروری نہیں ہوتا۔مگر چونکہ وہ ایک ایسا رویا ہے جو اپنے اندر اہمیت رکھتا ہے اور سلسلہ کی خدمت اور اس کا کام کرنے والوں کے ساتھ اس کا تعلق ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس کا