خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 171

1956ء 171 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس کی وجہ سے بیشک کچھ وقت تک کمزوری محسوس ہوتی تھی لیکن تھوڑی دیر کے بعد طبیعت بحال ہو جاتی تھی۔ مگر آج میری یہ کیفیت ہے کہ کسی جگہ ذرا دیر بھی نظر ڈالنے سے دماغ بوجھ محسوس کرتا ہے۔ ٹہلتے ٹہلتے گھڑی پر نظر ڈالتا ہوں یا باہر دیکھتا ہوں تو یہ دماغ کی تھکان کے لیے کافی سبب ہو جاتا ہے۔ پس جو دوست سمجھتے ہیں کہ جو کام میں نے اپنے ذمہ لگایا ہے اور باوجود بیماری کے میں کر رہا ہوں وہ اسلام اور سلسلہ کے لیے مفید ہے وہ میری صحت کے لیے خاص طور پر دعائیں کریں۔ پچھلے اکتوبر اور نومبر میں دوستوں نے جو دعائیں کی تھیں اُن کی وجہ سے میری طبیعت یکدم بحال ہو گئی تھی۔ کراچی سے جب میں آیا تو میری طبیعت سخت خراب ہو گئی تھی لیکن دعاؤں کے نتیجہ میں وہ صورت جاتی رہی۔ جب میں یورپ گیا تو وہاں کے ڈاکٹروں نے بھی کہا تھا کہ آپ کی صحت معجزانہ ہے اور جب میں واپس آیا تو شروع شروع میں تو میری طبیعت خراب رہی اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ میں کوئی کام بھی نہیں کر سکتا لیکن جب دوستوں نے دعا ئیں شروع کیں تو میری طبیعت اتنی بحال ہو گئی کہ میں دسمبر میں کام بھی کرتا رہا اور پھر جلسہ پر تقریریں بھی کیں اور کئی سفر بھی مجبوراً کرنے پڑے۔ جنوری کا مہینہ بھی اِسی حالت میں گزر گیا۔ فروری میں طبیعت خراب ہونے لگی۔ مارچ میں کام کرنا پڑا۔ اس لیے اپریل میں طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ جس وقت اس قسم کی کوفت ہوتی ہے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ پ اپنی طبیعت پر زور ڈال کر اسے سمجھائیں لیکن یہ بات غلط ہوتی ہے۔ مجھے اپنے آپ کو سمجھانے کی بھی طاقت نہیں ہوتی بلکہ سمجھانے سے اور زیادہ گھبراہٹ ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ طبیعت گھبرا کر سمجھانا چھوڑ دیتی ہے۔ پس طبیعت کو سمجھانا بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار آر میں ہے۔ بعض دوستوں نے بڑی اچھی خوابیں دیکھی ہیں لیکن ان خوابوں کی وجہ سے بہت سے دوست غلط فہمی میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں حالانکہ جب انبیاء کی خوابوں کی بھی تعبیریں ہوتی ہیں تو مومنوں کی خوابوں کی کیوں تعبیر نہ ہو۔ پس یہ طریق غلط ہے کہ کوئی اچھا خواب دیکھا تو بیٹھ گئے اور یہ سمجھ لیا کہ اب اچھے ہو جائیں گے اور اس کی وجہ سے دعاؤں میں کمی کر دی۔ بلکہ