خطبات محمود (جلد 37) — Page 170
$1956 170 خطبات محمود جلد نمبر 37 دوسرے دیکھنا بھی مشکل تھا۔رات نہایت کرب اور گھبراہٹ میں گزری۔سفر کی وجہ سے پیٹ میں بھی خرابی پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے اجابت بھی صحت والی نہیں ہوئی۔صبح جو اجابت کی ہوئی وہ اتنی سبز تھی جیسے درخت کے تازے پتے ہوتے ہیں۔اس کے معنے یہ تھے کہ جگر بالکل کام نہیں کر رہا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی اپنے خطبات میں بتایا ہے جن دنوں دوست زیادہ دعائیں کرتے ہیں میری طبیعت سنبھلنے لگ جاتی ہے اور جب وہ دعاؤں میں کوتاہی کرتے ہیں تو طبیعت بگڑنے لگ جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ دو چیزیں میری صحت کے راستہ میں روک بنتی ہیں۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ جب میں کام شروع کر دیتا ہوں تو دوست سمجھتے ہیں کہ میں اب اچھا ہو گیا ہوں۔وہ دعاؤں میں غفلت سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔رے وہ مجھ پر کام کا زیادہ بوجھ ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے میرا زیادہ سے زیادہ کی وقت مصروف رہتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ میرا دماغ تھک جاتا ہے اور اس کا صحت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔اس طرح دل پر سے قبضہ جاتا رہتا ہے اور گھبراہٹ اور خفقان کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔پچھلے دنوں جب میری طبیعت اچھی تھی میں سمجھتا تھا کہ اگر میری طبیعت ایک دو ماہ ایسی ہی رہی تو شاید میرا دل قابو میں رہے۔طبیعت متواتر کچھ عرصہ تک ایک ہی طرح رہے تو جسم کو اس کی عادت ہو جاتی ہے لیکن کچھ عرصہ طبیعت اچھی رہنے کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا سبب پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پھر کوئی خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔عادتیں ایک ایک، دو دو ماہ میں پڑتی ہیں صرف چند دن ایک ہی ڈگر پر چلنے سے عادت پیدا نہیں ہوتی۔بلکہ بیماری کے بار بار آنے سے جسم میں بیماری کی عادت پیدا ہوتی ہے اور صحت کا احساس کم ہو جاتا ہے۔بہر حال مجھے اس وقت ایسی تکلیف ہے جس کی وجہ سے کوئی کام کرنا بھی ناممکن ہے۔نہ کسی کام کی طرف میں پوری توجہ دے سکتا ہوں ، نہ قرآن کریم کا ترجمہ کر سکتا ہوں اور نہ کوئی نوٹ لکھوا سکتا ہوں۔جس وقت اللہ تعالی طبیعت بحال کرے گا میں کچھ کام کر سکوں گا۔آج جو میری حالت ہے اُس سے تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ میں ایک منٹ کے لیے بھی کوئی کام نہیں کر سکتا لیکن اس سے قبل ایک ایک گھنٹہ بلکہ دو دو گھنٹے بھی کام کر سکتا تھا۔