خطبات محمود (جلد 37) — Page 164
خطبات محمود جلد نمبر 37 164 $1956 میں یہ حکم بھی دے دیتا ہوں کہ اگر کسی نے دوسرے شخص پر کوئی ایسا الزام لگایا جس کی سزا موت ہوئی اور وہ تحقیقات کے بعد جھوٹا ثابت ہوا تو الزام لگانے والے کو بھی موت کی سزا دی جائے گی۔اُس نے عام لوگوں پر قیاس کرتے ہوئے خیال کیا کہ جب کسی شخص کو یہ پتا لگ جائے گا کہ اب اسے موت کی سزا ملنے والی ہے تو وہ احمدی ہونے سے انکار کر دے گا اور دوسری طرف الزام لگانے والا ڈرے گا کہ اگر تحقیقات پر اُس نے احمدی ہونے سے انکار کر دیا تو مجھے موت کی سزا ملے گی۔چنانچہ واقع میں ایسا ہی ہوا۔اس اعلان کے نتیجہ میں لوگ ڈر گئے کہ اگر ہم کسی کو قادیانی کہیں گے اور وہ موقع پر قادیانی ہونے سے انکار کر دے تو ہمیں موت کی سزا ملے گی۔اس کے نتیجہ میں احمدی بے دھڑک وہاں رہنے لگ گئے۔انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا تھا۔ظاہرشاہ کے وقت میں بھی ایسا ہوا کہ اگر کسی والی نے احمدیوں کو پکڑ لیا اور اُن مالی سے رشوت طلب کی تو بادشاہ نے نہ صرف انہیں آزاد کروا دیا بلکہ والی نے اگر کچھ روپیہ لے لیا تھا تو وہ بھی واپس دلوا دیا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ اسلام کے اثر کی وجہ سے ہے۔چاہے ان کے ملک میں کتنی غیر آئینی ہے مگر چونکہ وہ مسلمانوں کی نسل سے ہیں اس لیے ان میں کسی حد تک نیکی کا مادہ موجود ہے۔اب بھی یہ خبر ملی ہے کہ 13 احمدی جو گرفتار کیے گئے تھے حکومت نے انہیں رہا کر دیا ہے۔یہ چیز بتاتی ہے کہ چاہے مسلمانوں میں کتنی خرابیاں ہوں اسلامی تعلیم کا ان پر اس قدر اثر ضرور ہے کہ وہ انہیں نیکی کی طرف مائل کر دیتا ہے۔میں نے دیکھا۔ہم خوشی اور افسوس کے مواقع پر حکومتوں کو تاریں دیتے ہیں تو غیر احمدی اسلامی حکومتیں ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ہماری تاروں اور پیغامات کی پروا بھی نہیں کرتیں لیکن اسلامی حکومتیں ان کی قدر کرتی ہیں۔مجھے یاد ہے ابن سعود کو ایک دفعہ کسی موقع پر تار دی گئی تو انہوں نے فوراً اپنے نام سے جماعت کا شکریہ ادا کیا۔پھر ایک دفعہ اردن کے شاہ عبداللہ کو میں نے خط لکھا تو انہوں نے اس کے جواب میں اپنے دستخطوں سے ایک مفصل خط بھجوایا۔شاہ ایران کو ایک دفعہ ہمدردی کی تار دی تو انہوں نے حسین اعلیٰ کے ذریعہ جو اُس وقت وزیر دربار تھے شکریہ کی تار بھیجی۔غرض میں نے دیکھا ہے کہ اسلامی حکومتوں میں بہت سے اسلامی اخلاق