خطبات محمود (جلد 37) — Page 163
$1956 163 خطبات محمود جلد نمبر 37 حسب وعدہ احمدیوں کی بعض تکالیف کا ازالہ کر دیا۔اس موقع پر ہمارے مبلغ نے اپنے آپ کو جس طرح گورنمنٹ کے سامنے ظاہر کر دیا تھا پبلک پر بھی ظاہر کر دیا۔شروع میں تو امان اللہ خاں نے دلیری دکھائی اور جہاں کہیں احمدیوں پر سختی ہوتی تھی وہ خود فون کے ذریعہ اُسے روکتا اور کہتا کہ ہمارے ملک میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔لیکن بعد میں مولویوں سے ڈر گیا اور مولوی نعمت اللہ خاں کو سنگسار کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔لیکن خدا تعالیٰ نے بھی امان اللہ خاں کو بغیر سزا کے نہ چھوڑا۔جب نادر شاہ نے برسر اقتدار آنا چاہا تو لازماً ہمیں اُس سے ہمدردی تھی مگر نادر شاہ کو فوج نہیں ملتی تھی۔اُس نے خیال کیا کہ اگر وزیری اُس کے ساتھ مل جائیں تو اُسے فتح کی امید ہو سکتی ہے۔چنانچہ وہ سرحد پر آیا اور اُس نے وزیریوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اُس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔وہاں ایک احمدی حکیم تھے جن کا وزیریوں پر اثر تھا۔انہوں نے نادر شاہ کے حق میں وزیر یوں میں پیگنڈا کیا۔چنانچہ آہستہ آہستہ وزیری اس کے ساتھ شامل ہو نے لگے اور تھوڑے عرصہ میں ہی ایک بڑا لشکر تیار ہو گیا۔ایک اور احمدی نوجوان بھی وہاں تھے جو خوست کے رہنے والے تھے۔انہوں نے بھی اس کی مدد کی۔چنانچہ نادر شاہ نے ان دونوں کو محبت کی نگاہ سے دیکھا اور وزیریوں کے اس لشکر کے ذریعہ شاہی فوج کو شکست دی اور افغانستان کے تخت پر قابض ہو گیا۔فتح کے بعد اُس نے احمدیوں سے کہا کہ تم افغانستان واپس چلو۔میں تمہیں آزادی دوں ہا۔لیکن جب کچھ مدت تک انتظار کرنے کے باوجود احکام جاری نہ ہوئے تو احمدی دوست نادرشاہ سے ملے اور اُسے اُس کا وعدہ یاد دلایا۔نادرشاہ نے کہا مجھے اپنا وعدہ خوب یاد ہے لیکن اگر موجودہ مخالفت کے دور میں میں نے احکام جاری کر دیئے تو مجھے خوف ہے کہ افغان کہیں مجھے ہی نہ مار ڈالیں۔آپ کچھ دیر صبر کریں۔مناسب موقع ملنے پر میں احکام جاری کر دوں گا۔پھر چند ماہ اور گزر گئے لیکن پھر بھی حکومت کی طرف سے کوئی احکام جاری نہ ہوئے۔اس پر ہمارے احمدی دوست پھر نادر شاہ سے ملے اور کہا کہ اب تو ہم تنگ آچکے ہیں۔آخر آپ کب احکام جاری فرمائیں گے؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد نادرشاہ نے کہا مجھے ایک ترکیب سوجھی میں تمہارے خلاف حکومت کے پرانے حکم کی تائید کر دیتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی