خطبات محمود (جلد 37) — Page 162
1956ء 162 خطبات محمود جلد نمبر 37 چیف آف دی جنرل سٹاف بے اختیار بول اُٹھے کہ آپ کی رؤیا بالکل درست ہے اور میں اس کا گواہ ہوں۔ میں اُن دنوں اُس فوج کا کمانڈر تھا جو پٹھانوں سے لڑ رہی تھی ۔ ایک دن پٹھان فوج ہمیں دھکیل کر اتنا پیچھے لے گئی کہ ہماری شکست میں کوئی شبہ باقی نہ رہا تھا اور ہمیں مرکز کی طرف سے یہ احکام موصول ہو گئے تھے کہ فوجیں واپس لے آؤ۔ چنانچہ ہم نے اپنا سامان ایک حد تک واپس بھی بھیج دیا تھا۔ لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ پٹھان فوج کو ہماری فوجی طاقت کے متعلق غلطی لگ گئی اور وہ آگے نہ بڑھی۔ اگر وہ آگے بڑھ آتی تو افغان فوج ڈیرہ اسماعیل خان تک ہمیں دھکیل کر لے آتی اور ہمارے ہاتھ سے پنجاب بھی نکل جاتا۔ اس لڑائی کے بعد افغانستان کا ایک وفد منصوری آیا۔ میں نے اپنا ایک وفد منصوری بھیجا تا کہ وہ افغان نمائندوں سے گفتگو کر سکے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ آخر ہمارا کیا قصور ہے کہ آپ کے ملک میں ہمارے آدمی مارے جاتے ہیں۔ نیک محمد خاں صاحب جو غزنی کے گورنر میراحمد خاں صاحب کے بیٹے ہیں اُس وفد کے ایک ممبر تھے جو ہم نے منصوری بھیجا۔ افغان وفد میں محمود طرزی صاحب بھی تھے جو امان اللہ خاں کے خسر تھے اور حکومت افغانستان کی طرف سے پیرس میں سفیر بھی رہ چکے تھے اور ایک ہندو وزیر تھے جو اُس وقت حکومت افغانستان کے وزیر خزانہ تھے۔ ہندو وزیر نے نیک محمد خاں صاحب کو دیکھتے ہی کہا تم تو پٹھان ہو تم یہاں کیسے آئے ہو؟ انہوں نے کہا میں احمدی ہوں۔ آپ کے ملک میں امن نہیں تھا اس لیے میں یہاں آگیا۔ وزیر نے کہا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا میں غزنی کا رہنے والا ہوں اور وہاں کے گورنر میر احمد خاں صاحب کا بیٹا ہوں۔ ہندو وزیر روتے ہوئے نیک محمد خاں صاحب سے بغلگیر ہو گیا اور کہنے لگا تم میر احمد خاں کے بیٹے ہو اور یہاں پھر رہے ہو!! میراحمد خاں تو میرا بھائی تھا۔ تمہیں افغانستان میں کون کچھ کہہ سکتا ہے۔ تم اپنے وطن میں واپس آ جاؤ۔ میں تمہاری حفاظت کروں گا ۔ محمود طرزی صاحب نے بھی کہا کہ اگر تم افغانستان آ جاؤ تو تم پر کوئی سختی نہیں ہوگی ۔ میں خود نگرانی کروں گا۔ تم ایک درخواست بھیج دو تو میں تمہاری واپسی کا انتظام کر دوں گا۔ چنانچہ ہم نے مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کو جو پہلے سے افغانستان میں موجود تھے محمود طرزی صاحب سے ملنے کے لیے کہا اور انہوں نے