خطبات محمود (جلد 37) — Page 3
$1956 3 خطبات محمود جلد نمبر 37 کی تعداد دو تین درجن ہو گی۔دنیا میں رہنے کے لیے ایک دوسرے سے بھائی چارا کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بھائی چارا سنجیدگی سے ہونا چاہیے۔اگر کسی سے صرف ہنسی مذاق کر لیا جائے اور جب وہ جُدا ہو تو اُس کا خیال دل سے نکال دیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔اگر اپنے دوستوں اور ملنے جلنے والوں سے سنجیدہ باتیں کی جائیں اور اُن کے اندر صداقت معلوم کرنے اور اس کے متعلق غور اور فکر کرنے کی لگن پیدا کی جائے تو خود بخود اُن کے اندر یہ خواہش پیدا ہو گی کہ وہ تمہاری باتیں سنیں۔اور جب کبھی تمہارا مبلغ یا امام یہاں آئے تو اُس سے بھی ملاقات کریں اور اُس کی باتیں سنیں۔پس یہاں کے احباب کو اپنی اس ذمہ داری کو نہیں بھلانا چاہیے۔لاہور ایک اہم جگہ ہے اور اب اسے اور بھی زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے کیونکہ مغربی پاکستان کے ایک یونٹ بن جانے پر یہ اس کا دارالخلافہ ہو گیا ہے۔اس وقت پاکستان میں کراچی سے اُتر کر لاہور اور ڈھاکہ کو جو پوزیشن حاصل ہے وہ کسی اور شہر کو حاصل نہیں۔اس لیے یہاں کی جماعت کے جو ذمہ دار لوگ ہیں انہیں خصوصیت سے ان امور کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔دنیا میں انسان کی زندگی محدود ایام کی ہے۔اگر اس کو بھی ضائع کر دیا جائے تو دنیا میں انسان نے دوبارہ تو نہیں آنا۔موت کے آنے تک اُس نے جو کچھ کر لیا سو کر لیا۔اس کے بعد اعمال کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے۔اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی مختصر زندگی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے اور اس مختصر وقت کو کسی صورت میں بھی ضائع نہ کرے۔پس یہاں کے تمام احباب کو چاہیے کہ وہ اس امر کی طرف توجہ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ باتیں کیا کریں اور اس طرز سے باتیں کیا کریں کہ اُن میں سچائی معلوم کرنے کی لگن پیدا ہو جائے۔جب اُن میں سچائی معلوم کرنے کی لگن پیدا ہوتی جائے گی تو جہاں بھی انہیں سچائی نظر آئے گی وہ اُسے قبول کر لیں گے۔ضرورت صرف اس ت کی ہے کہ انسان کے اندر لگن پیدا ہو جائے کیونکہ جب کسی کے اندر لگن پیدا ہو جاتی ہے تو وہ کسی کے روکنے کی وجہ سے رُکتا نہیں بلکہ وہ تحقیق حق کے لیے دوڑتا ہے اور خود اس کے متعلق سوالات کرتا ہے۔۔