خطبات محمود (جلد 37) — Page 2
$1956 2 خطبات محمود جلد نمبر 37 سے اکثر گورنمنٹ کے ملازم نہیں۔اور گورنمنٹ نے جو اعلان کیا تھا اور اس کی ہم نے تصدیق کی تھی وہ گورنمنٹ کے ملازمین کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔لیکن یہاں کے امیر چودھری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ہیں جو گورنمنٹ کے ملازم نہیں۔وہ اگر اپنے دوستوں اور تعلقات رکھنے والے لوگوں سے اپنے خیالات کا اظہار کریں تو نہ گورنمنٹ کی طرف سے ان پر کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے اور نہ پبلک کی طرف سے ان پر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے۔ان سے پہلے شیخ بشیر احمد صاحب لاہور کی جماعت کے امیر تھے۔وہ بھی گورنمنٹ کے ملازم نہیں۔وہ یاب پریکٹشنر (PRACTITIONER) ہیں اور ان کا حلقہ اثر بہت وسیع ہے۔وہ بھی اپنے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں کو سنجیدگی سے اپنے خیالات پہنچا سکتے ہیں اور پھر اُن کو احمدیت کے متعلق تحقیق کی تحریک ہو سکتی ہے ہے۔کسی زمانہ میں چودھری ظفر اللہ خان صاحب لاہور کی جماعت کے امیر تھے اور میں جب کبھی یہاں آتا تھا تو انہی کے گھر ٹھہرتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ اُن دنوں جب بھی میں یہاں آتا تھا ملنے والوں کا برابر تانتا بندھا رہتا تھا۔لوگ میری باتیں سننے کے لیے آ جاتے تھے اور یہ بہر حال چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی سنجیدگی کا اثر تھا کہ لوگ اُن کی باتیں سنتے تھے اور جب کبھی میں یہاں آتا تھا تو اُن کے دوستوں کو خیال آتا تھا کہ وہ مجھ سے مل لیں۔لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔اب مجھے یہاں پہلے کی نسبت زیادہ عرصہ تک ٹھہرنے کا موقع ملتا ہے لیکن میں نے اپنے قیام کے دوران میں کبھی بھی سنجیدہ اور تعلیم یافتہ لوگوں کو نہیں دیکھا کہ وہ میری ملاقات کے لیے آئے ہوں اور انہوں نے مجھ سے احمدیت کے متعلق کوئی بات پوچھی ہو یا قرآن کریم کے متعلق کوئی سوال دریافت کیا ہو یا مذہب کے متعلق گفتگو کی ہو یا وقتی ضروریات کی کے متعلق کوئی بات دریافت کی ہو۔حالانکہ کراچی میں جب بھی میں جاتا ہوں وہاں پر ہر قسم کے لوگ میری ملاقات کے لیے آتے ہیں۔اُن میں نہ صرف پبلک کے سرکردہ لوگ ہوتے ہیں بلکہ گورنمنٹ کے اعلیٰ ملازم بھی ہوتے ہیں۔اس دفعہ جب میں کراچی گیا تو میں بیمار تھالیکن اس سے قبل جب میں وہاں گیا تھا تو مجھے یاد ہے کہ سول سکریٹریٹ کے دس گیارہ ممبر اور سنٹرل سکریٹریٹ کے بہت سے لوگ مجھے ملنے کے لیے آئے تھے۔میرے خیال میں اُن