خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 143

1956ء 143 12 خطبات محمود جلد نمبر 37 یوم جمہوریہ بلا شبہ سارے ملک کے لیے ایک خوشی کا دن ہے تم جہاں خوشی مناؤ وہاں یہ بھی دعائیں کرو کہ پاکستان کے باشندوں میں ہمیشہ ہمیش کے لیے نیکی کا عنصر غالب رہے (فرمودہ 23 مارچ 1956ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میں خطبہ جمعہ میں دو امور کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ایک امر تو یہ ہے کہ جامعہ احمدیہ کے ایک طالبعلم نے صدرانجمن احمد یہ کے وظائف کی تقسیم کے متعلق میرے پاس شکایت کی ہے۔ چونکہ شکایت کرنے والے نے مومنانہ جرات سے کام لے کر اپنا نام بھی اس کی میں لکھ دیا ہے اس لیے میں نے اس کے متعلق تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ میرا قاعدہ ہے کہ چاہے دس لاکھ عرضیاں بغیر نام کے آ جائیں میں اُن کے متعلق کوئی کارروائی نہیں کرتا کیونکہ یہ سخت بزدلانہ حرکت ہے کہ کوئی شخص شکایت پیش کرے اور پھر اپنا نام چھپائے ۔ معلوم نہیں کس حکمت کے ماتحت کسی نے یہ کہا ہے کہ اُنظُرُ إِلى مَا قَالَ وَلَا تَنْظُرُ إِلَى مَنْ قَالَ تُو يه