خطبات محمود (جلد 37) — Page 142
142 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور صوفیاء میں سے سید عبدالقادر صاحب جیلانی، شہاب الدین صاحب سهروردی، بہاء الدین صاحب نقشبندی، معین الدین صاحب چشتی، محی الدین صاحب ابن عربی حضرت جنید بغدادیؒ ان تمام بزرگوں کے ماں باپ بھی اگر یہی خیال کر لیتے تو یہ پاک لوگ جنہوں نے دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا کیا ہے کس طرح ظاہر ہوتے۔در حقیقت تمام مدار نیت پر ہوتا ہے۔اگر بہیمیت کی نیت سے کوئی شخص ان تعلقات کو قائم کرتا ہے تو وہ انسانیت کی توہین کرتا ہے۔اور اگر اخلاق اور تقوی اللہ پر بنیاد رکھتا ہے تو وہ اخلاق اور تقوی اللہ کو قائم کرنے والا ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اس لیے شادی کرتا ہے کہ فلاں عورت بڑے خاندان کی ہے، کوئی اس لیے شادی کرتا ہے کہ فلاں عورت بڑی مالدار ہے، کوئی اس لیے شادی کرتا ہی ہے کہ فلاں عورت بڑی حسین ہے۔مگر فرمایا عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ 2 تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے ! تو نیک اور دیندار عورت کو ترجیح دے تا کہ ان تعلقات کی بنیاد نیکی اور تقوی پر قائم ہو اور اس کے نتیجہ میں ایسی نسلیں پیدا ہوں جو خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے والی اور اُس کے ذکر کو قائم کرنے والی ہوں۔بہر حال یہ مضمون تھا جو میں نے رویا میں بیان کیا اور میں نے مناسب سمجھا کہ اس کا ذکر خطبہ میں بھی کر دوں۔(الفضل یکم اپریل 1956ء) 1 : النساء :2 2 : صحیح البخاری کتاب النكاح باب الاكفاء في الدين میں ” فَاظُفُرُ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يداک“ کے الفاظ ہیں۔