خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 135

خطبات محمود جلد نمبر 37 135 $1956 اپنا سارا اثاثہ حتی کہ لحاف اور چار پائیاں بھی اُٹھا کر لے آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے سامان کو دیکھ کر فرمایا ابوبکر ! کچھ گھر میں بھی چھوڑا ہے؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا يَا رَسُول اللہ ! میں نے گھر میں صرف خدا اور اُس کے رسول کا نام چھوڑا ہے۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ مجھے ہمیشہ یہ تڑپ رہتی تھی کہ میں کسی نہ کسی طرح مالی قربانی میں حضرت ابو بکر سے بڑھ جاؤں مگر میں اس میں کامیاب نہ ہو سکا تھا۔اس موقع پر میرے پاس اتفاقاً زیادہ مال تھا۔میں نے کہا چلو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ پر میں اس مال کا نصف حصہ دے دیتا ہوں۔چنانچہ میں نصف مال لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔جب میں وہاں پہنچا تو میں نے سنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر سے دریافت فرما رہے تھے کہ ابوبکر ! تم نے اپنے گھر میں بھی کچھ چھوڑا ہے؟ اور حضرت ابوبکر جواب دے رہے تھے یا رَسُول اللہ ! میں گھر میں خدا اور اُس کے رسول کا نام چھوڑ کر آیا ہوں۔حضرت عمر فرماتے ہیں جب میں نے یہ الفاظ سنے تو میں نے کہا یہ بڑھا نہیں ہارتا۔میں کتنی قربانی بھی کروں یہ مجھ سے آگے نکل جاتا ہے۔3 پس اپنے لیے بھی اور باقی احمدیوں کے لیے بھی یہ دعا کرو کہ جب بھی دنیا چھوڑنے کا وقت آئے تم کہہ سکو کہ اے خدا! تو نے ہمیں جو مال دیا تھا یا جان دی تھی ہم نے کی اسے تیرے رستہ میں قربان کر دیا ہے اور تیرے نام کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں رہا۔اب تو اپنے نام کی عزت کی وجہ سے ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں اپنا قرب نصیب فرما۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: نماز جمعہ کے بعد میں بعض جنازے پڑھاؤں گا۔(1) حکیم غلام حسین صاحب پاڑہ چنار فوت ہو گئے ہیں۔حکیم صاحب پرانے احمدی تھے۔درمیان میں انہیں ابتلا بھی آ گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں احمدیت کے قبول کرنے کی توفیق دے دی۔(2) عذرا بیگم صاحبہ اہلیہ ایم عبدالرحمان صاحب ڈھا کہ فوت ہو گئی ہیں۔انہوں نے نواب صاحب کے گھر میں ہی پرورش پائی تھی۔ان کے والد افریقہ میں رہتے تھے۔