خطبات محمود (جلد 37) — Page 124
124 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 اخبار خود خریدا کرتا تھا۔حالانکہ اُس وقت مجھے صرف تین روپیہ ماہوار جیب خرچ ملا کرتا تھا۔مجھے انگریزی زبان سے دلچسپی بھی انہی اخبارات کے مطالعہ کی وجہ سے ہوئی۔میں اپنا سارا یب خرچ اخبارات خریدنے میں لگا دیتا تھا کیونکہ مجھے اپنی معلومات کو وسیع کرنے کا شوق تھا۔ان دنوں سکول میں اخبارات آتے تھے اور میرے لیے ممکن تھا کہ میں وہاں جا کر اُن کا مطالعہ کرسکوں۔لیکن میری غیرت برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ میں دوسری جگہ سے اخبارات لے کر پڑھوں۔پس واقفین کو چاہیے کہ وہ خود اخبارات خریدیں اور اُن کا مطالعہ کریں تا کہ ان کی معلومات وسیع ہوں۔انہیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ اخراجات کہاں سے لائیں گے انہیں معمولی گزارہ ملتا ہے۔بلکہ انہیں کسی نہ کسی طرح اخبارات کے لیے اخراجات مہیا کرنے چاہیں۔مثلاً یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کپڑے دھوبی سے نہ دھلوائیں بلکہ خود دھو لیں اور جو رقم بچے اُس سے کوئی اخبار خرید لیں۔اسی طرح انہیں انتظامی کاموں کی اہلیت پیدا کرنی چاہیے تا کہ۔انہیں ایسے عہدوں پر مقرر کیا جائے وہ اپنے کام کو خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکیں۔در دصاحب کو دیکھ لو جب وہ مرکز میں خدمت کے لیے آئے تو اُن کی عمر اٹھارہ انیس سال کی تھی مگر اُس وقت بھی وہ سلسلہ کے کاموں کے لیے بڑے بڑے سرکاری افسروں حتی کہ وزراء کو بھی بے دھڑک مل لیتے تھے۔اور اب بعض لوگ ایسے ہیں جو پینتالیس پینتالیس سال کے ہیں اور در دصاحب سے تعلیم میں بھی زیادہ ہیں لیکن انہیں کسی افسر سے ملنے کے لیے بھیجا جائے تو اول تو وہ افسر کی ملاقات سے پہلے ہی کانپنے لگ جاتے ہیں اور پھر اوٹ پٹانگ باتیں کر کے آ جاتے ہیں۔حالانکہ احراری علماء نے بھی اس قسم کی قابلیت اپنے اندر پیدا کر لی تھی کہ خواجہ ناظم الدین صاحب اُن سے ملا کرتے تھے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے واقفین اپنے اندر قابلیت پیدا نہ کریں۔اگر واقفین اپنے اندر یہ قابلیت پیدا کر لیں تو جماعت کے دوست خود بخود ان کا اعزاز کرنے لگ جائیں گے۔پس اگر واقفین چاہتے ہیں کہ ان کا جماعت میں اعزاز ہو تو انہیں بھی اس کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔انہیں موجودہ سیاست اور تنظیم سے واقفیت پیدا کرنی چاہیے۔پچھلے سال جو مجھے بیماری کا حملہ ہوا وہ صرف اس وجہ سے ہوا کہ میں نے بجٹ کی