خطبات محمود (جلد 37) — Page 120
خطبات محمود جلد نمبر 37 لگے ہوئے ہیں۔ 120 1956ء پس اس دوست کی یہ بات بالکل درست ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچپن سے ہی اپنے بچوں کے دلوں میں یہ بات ڈالنا شروع کر دیں کہ بڑے ہو کر انہوں نے دین کی خدمت کرنی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کام میں عورتیں بہت مدد دے سکتی ہیں۔ اس وقت مسجد میں عورتیں بھی بیٹھی ہیں۔ میں انہیں بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں اور بچپن سے ہی بچوں کے کانوں میں یہ ڈالنا شروع کر دیں کہ بڑے ہو کر انہوں نے دین کی خدمت کرنی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بڑے ہو کر انہیں دین کی خدمت کا احساس رہے گا۔ کچھ عرصہ ہوا کالج کی ایک سٹوڈنٹ ہمارے گھر آئی اور اس نے مجھے ایک رقعہ دیا۔ جس میں لکھا تھا کہ میں دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا بی بی! لڑکیاں زندگی وقف نہیں کر سکتیں کیونکہ واقف زندگی کو تبلیغ کے لیے گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے بلکہ بعض دفعہ اُسے ملک سے بھی باہر جانا پڑتا ہے اور لڑکیاں اکیلی باہر نہیں جاسکتیں۔ ہاں ! اگر تم تم زندگی وقف کرنا چاہتی ہو ہوتو تو کسی واقف زندگی نوجوان سے سے شادی کر لو۔ وہ خاموش ہو کر چلی گئی۔ میری بیوی کی ایک ہم جماعت کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگی میں نے اس سے پہلے کی نیت کی ہوئی تھی کہ میں اپنی زندگی دین کے لیے وقف کروں گی لیکن اس نے پہل کر لی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کیسے کہ اس کی شادی ایک غیر ملکی واقف زندگی نوجوان سے ہو گئی۔ اب دیکھو! نیک نیتی کیسے اچھے پھل لاتی ہے۔ پھر ایک دن ایک اور لڑکی روتی ہوئی میرے پاس آئی اور اُس نے کہا کہ میں کسی واقف زندگی نوجوان سے شادی کرنا چاہتی ہوں لیکن میرے والد اس میں روک بنتے ہیں اور وہ میری شادی واقف زندگی سے نہیں کرنا چاہتے۔ میں حیران ہوا کہ اس کے اندر کس قسم کا اخلاص پایا جاتا ہے۔ میں نے مولوی ابوالعطاء صاحب کو کہا کہ وہ اس کے والد کو سمجھائیں۔ آخر چند دنوں کے بعد وہ پھر آئی اور اس نے کہا کہ میرا والد ایک واقف زندگی سے میری شادی کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ چنانچہ اُس کی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد وہ پھر ایک دن روتی ہوئی میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرا باپ کہتا ہے کہ اگر تو اپنے خاوند کے ساتھ ملک سے