خطبات محمود (جلد 37) — Page 106
1956ء 106 خطبات محمود جلد نمبر 37 کوئی کوتاہی کرتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بیوقوف تھا۔ ایک دفعہ نمبردار اُس کا برتن مانگ کر لے گیا مگر اس نے وہ برتن وعدہ کے مطابق واپس نہ کیا۔ ایک دن ما وہ اپنا برتن واپس لینے گیا تو اُس نے دیکھا کہ نمبردار اس میں ساگ ڈال کر کھا رہا ہے۔ وہ غصہ میں آ کر کہنے لگا کہ نمبردار ! تو میرا برتن مانگ کر لایا تھا اور اب تو اس میں ساگ ڈال کر ! کھا رہا ہے۔ مجھے بھی ایسا ویسا نہ سمجھنا۔ اگر میں تیرا برتن نہ لے جاؤں اور اس میں پاخانہ ڈال کر نہ کھاؤں۔ اس بیوقوف نے یہ نہ سمجھا کہ وہ پاخانہ کھائے گا تو نمبردار کو کیا نقصان ہو گا۔ وہ اپنا نقصان آپ کرے گا۔ پس اگر وقف سے بھاگے ہوئے نوجوان اس قسم کی باتیں کرتے ہیں تو اس کا نقصان اُنہی کو پہنچتا ہے کیونکہ وہ اس قسم کی باتوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے بگاڑ پیدا کر لیتے ہیں ۔ ان کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ تو بہ کرتے۔ پھر چاہے وہ وقف میں واپس نہ آتے لیکن اس قسم کی باتیں بنا کر کم از کم دوسروں کے لیے بدنمونہ پیش نہ کرتے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ممکن تھا کہ دوسروں کے لیے بدنمونہ نہ وہ ایسا تو خدا تعالیٰ انہیں معاف کر دیتا اور اُن سے اچھا سلوک کرتا۔ خدا تعالیٰ بڑا رحیم اور کریم ہے۔ انسان سے کئی قسم کی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں کیونکہ وہ کمزور طاقتوں والا وجود ہے لیکن جب وہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتا ہے تو اگر اُس کی اصلاح ممکن ہو تو خدا تعالیٰ اُس کی اصلاح کر دیتا ہے اور اگر اس کی اصلاح ممکن نہ ہو تب بھی وہ اپنی توبہ اور انابت سے خدا تعالیٰ کے عفو کو بہت کچھ کھینچ لیتا ہے۔ الفضل 8 مارچ 1956ء ) 1 : پالا: سخت سردی، گهر (فیروز اللغات اردو جامع ۔ فیروز سنز لاہور ) 2 : کڑکی : وہ آلہ جس سے لڑ کے چھوٹے چھوٹے چڑیاں یا چوہیا پکڑتے ہیں۔ (اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 14 صفحہ 883 کراچی 1992ء)