خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 105

$1956 105 خطبات محمود جلد نمبر 37 پردہ ڈالنے کے لیے دوسروں کو اسی غلطی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تا کہ سب ایک جیسے ہو جائیں۔لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی بیکار آدمی تھا۔اس کی گزارے کی کوئی صورت نہیں تھی۔اس کی نے کسی سے مشورہ لیا تو اس نے اُسے کہا کہ یہاں میلہ لگا کرتا ہے تم اس میلہ پر ایک خیمہ لگا دینا اور اس خیمہ کے اندر بیشک گوبر کا ڈھیر لگا دینا اور باہر ڈگڈگی بجا کر اعلان کرنا کہ بڑا عمدہ تماشا ہے اور روپیہ روپیہ ٹکٹ لگا دینا لیکن یہ نہ بتانا کہ اندر کیا ہے۔جو ایک دفعہ اندر جائے گا وہ دوسروں کو بھی ضرور بلائے گا۔چنانچہ اُس نے اس مشورہ پر عمل کیا اور ایک خیمہ لگا کر اُس کے اندر گوبر رکھ دیا۔خیمہ کے باہر کھڑے ہو کر اُس نے ڈگڈگی بجا کر یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ اندر بڑا اچھا تماشا ہو رہا ہے۔لوگوں نے بھی خیال کیا کہ جب ایک روپیہ ٹکٹ ہے تو تماشا بھی اچھا ہو گا۔چنانچہ بعض لوگ ٹکٹ لے کر خیمہ کے اندر گئے لیکن وہاں انہوں نے تماشا کی بجائے گوبر پڑا دیکھا تو بہت شرمندہ ہوئے۔انہوں نے خیال کیا کہ دوسرے لوگ ہمارے متعلق کیا خیال کریں گے۔چنانچہ اپنی اس شرمندگی کو چھپانے کے لیے انہوں نے بھی باہر نکل کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ بڑا اچھا تماشا ہے۔ان کی باتوں سے متاثر ہو کر دس بارہ آدمی اور اندر گئے۔وہ بھی گوبر دیکھ کر سخت شرمندہ ہوئے اور اپنی اس شرمندگی کو چھپانے کے لیے انہوں نے بھی یہ کہنا شروع کیا کہ اس جیسا تماشا انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔اس پر ایک ہجوم تماشا دیکھنے کے لیے دوڑ پڑا اور اس طرح اُس شخص کو کافی آمد ہو گئی۔پس دنیا میں اس قسم کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اپنی ذلت چھپانے کے لیے طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنی بیوقوفی میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔اس قسم کی باتیں بنانے کی وجہ سے اُس کی اپنی عزت تو رہ جاتی ہے لیکن دین کے کاموں میں رخنہ پیدا ہو جاتا ہے۔حالانکہ اصل علاج یہ تھا کہ وہ تو بہ کرتے اور کہتے ہم سے غلطی ہو گئی ہے، ہم اپنی کمزوری کی وجہ سے وقف کو برداشت نہیں کر سکے۔لیکن اگر کوئی اپنے پروپیگنڈا کی وجہ سے دوسروں کو بددل کرے گا تو خدا تعالیٰ کے سامنے وہ کیا کہے گا کہ میں تو وقف سے بھاگا تھا لیکن میں نے دوسروں کو بھی زندگیاں وقف نہیں کرنے دیں اور سپاہیوں سے تیرا دین خالی ہو گیا۔پس واقفین میں سے ہر ایک کو سمجھنا چاہیے کہ اُس کا معاملہ خدا سے ہے۔اگر و وہ