خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 92

خطبات محمود جلد نمبر 37 92 92 میرے علم میں ان کی کوئی مالی یا تبلیغی کو تا ہی نہیں آئی۔$1956 میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ دوسرے مبلغ مخلص اور سلسلہ سے محبت رکھنے والے نہیں۔اگر کوئی ایسا نتیجہ نکالتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔میں اس وقت دوسروں کی تنقیص نہیں کر رہا بلکہ صرف ایک مبلغ کی خوبی بیان کر رہا ہوں ورنہ ہمارے کئی دوسرے مبلغ بھی بڑا اچھا کام کرنے والے ہیں۔مثلاً خلیل احمد صاحب ناصر ہیں۔وہ بھی اچھے مبلغ ہیں۔گو اب شکایت آ رہی ہے کہ امریکہ کا مشن کمزور ہو رہا ہے۔شاید میرا خطبہ اُن کے پاس پہنچے تو وہ اپنی اصلاح کر لیں۔اسی طرح مولود احمد صاحب ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہے ہیں۔انہوں نے انگلستان کے مشن کا کام خوب سنبھالا ہے۔پھر جہاں تک تبلیغ کا سوال ہے شیخ ناصر احمد صاحب بھی بڑے اچھے مبلغ ہیں اور ان میں اس قدر اخلاص پایا جاتا ہے کہ جب بھی انہیں لکھا جاتا ہے کہ فلاں دوائی بھیج دو تو چند دن میں ہی وہ دوائی آجاتی ہے۔معلوم نہیں کہ وہ اپنے کاموں سے ان باتوں کے لیے کس طرح وقت نکال لیتے ہیں۔چودھری عبد اللطیف صاحب کا بھی یہی حال ہے ادھر انہیں خط لکھا جاتا ہے اور اُدھر دوائی آ جاتی ہے۔یہ دونوں نہایت اخلاص سے کام کر رہے ہیں۔لیکن شیخ ناصر احمد صاحب کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ انہوں نے وہاں شادی کر لی ہے اس لیے اب وہ مرکز میں کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ہاں وہاں وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔وہ جرمن زبان میں ایک رسالہ نکالتے ہیں جس کے متعلق رپورٹ آئی ہے کہ اس رسالہ کی دور دور سے مانگ آ رہی ہے۔یونیورسٹی کے طلباء انہیں بلا بلا کر تقریریں کراتے ہیں اور اُن سے اسلام کی تعلیم سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن جہاں تک مرکز میں رہ کر کام کرنے کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں وہاں شادی کر لینے کی وجہ سے مشکل پیش آئے گی۔ہر مرد کو اپنی بیوی پر حسن ظنی ہوتی ہے۔اس لیے ممکن ہے کہ جب میرا یہ خطبہ اُن کے پاس پہنچے تو وہ ہنس پڑیں اور کہیں حضرت صاحب کو میری بیوی کے متعلق کیا علم ہے کہ وہ کیسی مخلص ہے۔میں مرکز کی طرف ایک قدم جاؤں گا تو وہ ہمیں قدم جائے گی۔لیکن ہمارا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ وہ مرکز کی طرف ایک قدم آئیں گے تو اُن کی بیوی ہیں قدم پیچھے جائے گی اور ایک دن انہیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنی بیوی کو رکھیں یا مرکز میں رہیں۔ہاں