خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 88

خطبات محمود جلد نمبر 37 88 $1956 اٹھارہ ماہ میں دو بچے پیدا ہوں تو نو سال میں بارہ بچے ہو جائیں گے۔اب اگر وہ مبلغ نو سال کے بعد اپنے بارہ بچوں سمیت ہوائی جہاز میں سفر کرے تو قریب سے قریب ملک کا کرایہ بھی ایک طرف کا بارہ سو روپیہ لگتا ہے۔میاں بیوی کو ملا کر چودہ افراد ہو گئے۔اگر ایک شخص کا بارہ سو روپیہ کرایہ لگے تو چودہ افراد کے ایک طرف کے سفر پر سترہ ہزار روپیہ خرچ آئے گا اور اتنا خرچ سلسلہ کے پاس کہاں ہے کہ وہ ہر مبلغ کے آنے جانے پر سترہ سترہ ہزار روپیہ خرچ کرتا پھرے۔پس تم ان امور پر غور کرو اور اپنے افسروں سے بھی بحث کیا کرو۔تمہاری بحث کے نتیجہ میں وہ افسر بھی محسوس کریں گے کہ وہ تمہیں ایسے وقت میں باہر بھیجیں کہ ابھی تمہاری شادی کو پانچ چھ ماہ ہی ہوئے ہوں۔آخر جب بیوی نے تمہارے ساتھ ہی جانا ہے تو پھر زیادہ عرصہ تک انتظار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔زیادہ عرصہ تو تب انتظار کیا جائے جب مبلغ نے اکیلے جانا ہو۔اور اگر اس کی بیوی نے ساتھ جانا ہے تو چاہے وہ دوسرے ماہ ہی بھیج دیا جائے اس پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔بلکہ اگر اس کی شادی پر ایک سال گزر جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ اُس کا ایک بچہ ہو گا اور اس کی وجہ سے سلسلہ پر زیادہ مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔لیکن اگر گیارہ گیارہ بچے ہوں تو پھر سلسلہ ان کے اخراجات کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔پس مبلغین کو باہر بھیجنے کا پروگرام ایسے طور پر بنانا چاہیے کہ سلسلہ پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔اسی طرح تمہیں اپنی بیویوں کو بھی سمجھانا چاہیے کہ بچے بیشک خدا تعالیٰ کی نعمت ہیں لیکن اگر تم زیادہ بچے جنو گی تو نہ صرف سلسلہ کو نقصان ہو گا بلکہ تمہاری صحت بھی خراب ہو جائے گی۔پس بچوں کی پیدائش کی وجہ سے سلسلہ کے لیے بوجھ مت بنو۔خدا تعالیٰ نے بچوں کی پیدائش میں احتیاط کرنے سے صرف اُس وقت منع کیا ہے جب فاقہ کے ڈر سے ایسا کیا جائے لیکن اگر خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لیے ایسا کیا جائے تو منع نہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ عموماً دو قسم کی عورتیں ہوتی ہیں۔بعض تو اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ادھر اُن کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اُدھر اُن کے رقعے آنے شروع ہوئے کہ حضور! دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ ہمیں اور بچہ دے۔اور بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اُن کے رقعے آتے ہیں