خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 63

$1956 63 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں مزید کچھ کہنا نہیں چاہتا۔اس طرح ایک لڑکے کے متعلق مجھے معلوم ہوا تھا کہ خطبہ کے بعد اس کے باپ نے اس سے پوچھا کہ تم نے تو اس قسم کی کوئی بات نہیں کہی ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں اکیلا ہی تو مجرم نہیں ہمارے شاہدین ہی ایسے ہیں۔اب اس لڑکے نے کہا ہے کہ میری غرض اس بات کے بیان کرنے سے یہ نہیں تھی کہ ہم سب کا خیال ہے کہ شاہدین کو کم گزارہ ملتا ہے بلکہ میری غرض یہ تھی کہ جب حضور نے سب کو جھاڑا ہے تو میں اکیلا ہی مجرم نہیں۔جامعۃ المبشرین کے سب طلباء مجرم ہیں۔آخر حضور نے ہم سب کو ڈانٹا ہے تو غلط طور پر تو نہیں ڈانٹا۔اس کے والد نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ واقع میں اُس کا یہی منشا تھا۔اب چاہے یہ غلط ادب ہی کیوں نہ ہو بہر حال اُس طالبعلم نے میری بات کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کی اور پھر وضاحت بھی کر دی کہ اُس کا کیا منشا تھا۔بہر حال جامعۃ المبشرین کے طلباء کے متعلق جو غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی اُس کا ازالہ ہو گیا ہے۔مگر پھر بھی میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جس طرح کوئی دنیوی حکومت بغیر فوج کے نہیں چل سکتی اسی طرح کوئی دینی جماعت بغیر علماء کے نہیں چل سکتی۔دیکھو! دنیا کی اکثر حکومتیں فوج کی جبری بھرتی کی قائل ہیں اور وہ یہی کہتی ہیں کہ اگر قوم کے نوجوان یہ کہیں کہ فوج میں چونکہ زیادہ تنخواہ نہیں ملتی اس لیے ہم فوج میں نہیں ہے جاتے تو ملک کیسے بچ سکتا ہے۔ملک صرف اسی طرح بچ سکتا ہے کہ اگر نو جوان والنٹئیر کے طور پر فوج میں شامل نہ ہوں تو انہیں جبری طور پر اس میں بھرتی کر لیا جائے۔اس اصول کے مطابق اکثر دنیوی حکومتوں نے ضرورت کے وقت جبری بھرتی کا قانون تسلیم کیا ہے۔دینی جماعتوں کی فوج اُن کے علماء ہیں۔اگر کسی دینی جماعت کے علماء شوق سے دین کی خدمت کے لیے آگے نہیں آتے اور اگر وہ شوق سے دین کی خاطر اپنی زندگیاں وقف نہیں کرتے تو اُس جماعت کا حق ہے کہ وہ اپنے افراد سے کہے کہ اگر تم اس جماعت میں رہنا چاہتے ہو تو تمہیں لازماً اپنی زندگی وقف کرنی پڑے گی اور اس بات کو کوئی شخص ظلم نہیں کہ سکتا۔دنیا میں ہر ملک کی حکومت ضرورت کے وقت جبری بھرتی کرتی ہے۔امریکہ میں بھی جبری بھرتی ہو رہی ہے، فرانس میں بھی جبری بھرتی ہو رہی ہے، جرمنی میں بھی جبری بھرتی ہو رہی ہے، روس اور