خطبات محمود (جلد 37) — Page 608
$1956 608 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں لڑائی کرو۔اور فوراً انہوں نے کہا ہم حاضر ہیں اور پھر اپنے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کو چھوڑا اور چلے گئے۔شمس صاحب نے کل تقریر کی ہے۔وہ اتنا عرصہ باہر رہے کہ ایک دفعہ اُن کے بچے نے اپنی ماں سے آ کر کہا کہ اماں! سکول میں سارے بچے کہتے ہیں ابا ابا ! ہمارا اتبا کوئی نہیں؟ وہ اتنی مدت باہر رہے کہ چھوٹا بچہ تھا پیدا ہو کر جوان ہو گیا اور اسکول میں داخل ہو گیا ابا کی کبھی شکل نہیں دیکھی تھی۔آخر ماں سے پوچھنا پڑا کہ سارے بچے آتے ہیں اور کہتے ہیں ابا نے یہ کہا اتبا نے یہ کہا ہمارا اتنا کوئی نہیں؟ اسی طرح حکیم فضل الرحمان صاحب تھے۔وہ پندرہ سال باہر رہے۔اور بھی کئی مبلغ ہیں اور بڑا لمبا عرصہ باہر رہے۔ان کی حالتیں بدل گئیں۔جوان تھے بڑھے ہو گئے۔نیر صاحب مرحوم بیچارے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ، صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے جو ماریشس گئے ، حافظ عبید اللہ صاحب شہید یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی عمریں باہر خرچ کر دیں۔اور ان کو باہر لے جانے والا کون تھا ؟ خدا ہی تھا۔میں نے تو منہ سے ایک بات کہی تھی کہ آؤ! دینِ اسلام کی خدمت کے لیے میری مدد کرو اور اللہ تعالیٰ نے چاروں طرف سے میری طرف پرندے اُڑا دیئے اور کہا یہ پرندے حاضر ہیں ان کو لو اور ان کو لے کر دینِ اسلام کی تبلیغ کرو۔تو پرندے خدا تعالیٰ نے بھیجے میں نے صرف اُڑائے ہی تھے لیکن نیک نامی اور شہرت مجھ کو مفت میں مل گئی۔کام کرنے والے وہ تھے، بیوی بچے انہوں نے چھوڑے، وطن انہوں نے چھوڑا ، لوگوں سے گالیاں اور ماریں انہوں نے کھا ئیں اور مخالفتیں انہوں نے سہیں ، گورنمنٹوں کا بھی بعض دفعہ انہیں مقابلہ کرنا پڑا اور مجھے قادیان بیٹھے ہوئے ! ربوہ بیٹھے ہوئے یہ شہرت مل گئی کہ تبلیغ اسلام کر رہا ہے۔سو اللہ تعالیٰ سے مانگو وہ دے گا اور اس طرح مانگو کہ یا اللہ ! گھر بیٹھے تو ہماری وی ضرورتیں آپ پوری کیا کر، ہمیں کسی بندے کے پاس نہ جانا پڑے اور تیرے سوا کسی اور کا محتاج نہ ہونا پڑے۔( الفضل 30 جنوری 1957ء) 1 : بخاری كتاب الجمعة باب السَّاعة الَّتِي في يوم الجمعة (مفهومًا) 2 : كنز العمال جلد 7 صفحه 765 مطبوعه دمشق 2012ء