خطبات محمود (جلد 37) — Page 607
$1956 607 خطبات محمود جلد نمبر 37 رکھیو کیونکہ تیری احتیاج عبادت بھی ہے۔بندے کی احتیاج ذلت ہے اور تیری احتیاج عبادت ہے۔سو ہم تیرے عابد بندے ہوں، شکر گزار بندے ہوں، تجھ سے مانگنے والے ہوں اور تُو ہماری دعائیں قبول کرنے والا ہو۔انسانوں کے ہاتھ ہمارے آگے پھیلے ہوئے ہوں، لوگ ہمارے پاس آئیں کہ جناب! ہمارے لیے دعا کیجیے ہماری فلاں ضرورت پوری ہو جائے۔اور یہ نہ ہو کہ ہم اُن کے پاس جائیں اور اُن سے کہیں کہ تم ہماری مدد کرو کہ ہماری فلاں ضرورت پوری ہو جائے۔اللہ تعالیٰ غیب سے سامان پیدا کرتا ہے اور میرا ہمیشہ سے تجربہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے سامان پیدا کرتا ہے۔اور کئی دفعہ یہ شرمندگی ہوتی ہے کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ سے ایک چیز مانگی تو پھر بعد میں وہ اتنی ملی کہ خیال آیا کہ تھوڑی کیوں مانگی تھی۔اگر اُس سے زیادہ مانگی جاتی تو اللہ تعالیٰ اور زیادہ سامان کرتا۔میں یہاں ربوہ میں بیٹھا ہوں پہلے قادیان میں بیٹھا تھا۔اللہ تعالیٰ نے میرے پاس وہ نوجوان بھیج دیئے جو تبلیغ اسلام کے لیے دنیا میں نکل گئے اور ساری دنیا کو مسلمان بنانا شروع کیا اور کام میرا ہو گیا۔ہم بچپن میں اپنی والدہ اور نانی سے ایک کہانی سنا کرتے تھے کہ تین چھوٹے چھوٹے بھائی تھے۔اُن میں سے دو بھائیوں نے کوئی کام کیا اور ایک نے کچھ بھی نہ کیا۔جس نے کچھ بھی نہ کیا وہ اپنے بھائیوں کے پاس گیا اور انہوں نے اپنے اپنے حصہ میں سے جو کمایا تھا اُسے کچھ دے دیا۔تو کہانی میں آتا تھا کچھ اور نے نے دیا کچھ پود نے نے دیا اور چھوٹے میاں کا نام ہو گیا۔یہی صورت یہاں ہے۔کوئی مبلغ انگلستان جا رہا ہے، کوئی ہالینڈ جا رہا ہے، کوئی جرمنی جا رہا ہے، کوئی سوئٹزرلینڈ جارہا ہے، کوئی امریکہ جا رہا ہے، کوئی انڈونیشیا جار ہے، کوئی ملایا جا رہا ہے، کوئی فلپائن جا رہا ہے اور ہم گھر میں بیٹھے ہیں اور ہمارا کام ہو رہا ہے۔دنیا کہتی ہے کہ کیا خوب تبلیغ اسلام کر رہے ہیں حالانکہ تبلیغ اسلام تو اود نا اور پودنا کر رہے ہیں اور چھوٹے میاں کا صرف نام ہو رہا ہے۔تو دیکھو خدا سے مانگا تھا۔خدا نے خود نوجوان پیدا کیے۔خدا نے ان کے دلوں میں تبلیغ کی آگ پیدا کی اور میری زبان میں تاثیر پیدا کی۔میں نے کہا آؤ اور خدا تعالیٰ کے رستہ