خطبات محمود (جلد 37) — Page 606
$1956 606 خطبات محمود جلد نمبر 37 نشانہ بھی اُس طرح نہیں لگتا۔سو تم کو بھی میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے دل میں ذکر الہی کے علاوہ اور درود کے علاوہ یہ دعاؤں کے قبول کرنے کا خود بھی موجب ہیں اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دل میں یہ دعا کرتے رہو کہ یا اللہ ! ہمیں دعائیں کرنے کی اور نیک دعائیں کرنے کی توفیق دے اور جو بھی تیری مرضی کے مطابق ہم نیک دعائیں کریں تو اُن کو ہمیشہ قبول فرماتا رہ تا کہ ہم تیرے سوا کسی بندے کے محتاج نہ ہوں۔ہم اپنی ہر غرض تیرے پاس لائیں اور تو اُسے قبول کر۔کسی بندے کا ہم کو محتاج نہ بنا۔حضرت خلیفہ اول کو یہ دعوی تھا۔فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں ایک ایسا نسخہ معلوم ہے کہ اُس کی وجہ سے جو ضرورت ہوتی ہے وہ پوری ہو جاتی ہے اور روپیہ آ جاتا ہے۔نانا جان مرحوم باہر جاتے تھے، چندے لیتے تھے مسجد کے لیے اور دار الضعفاء وغیرہ کے لیے۔ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے کہنے لگے میر صاحب! میں آپ کو وہ نسخہ بتاؤں کہ جس کے ذریعہ سے آپ کو بیٹھے روپیہ آ جایا کرے اور مسجدیں بھی بن جائیں اور دارالضعفاء بھی بن جائیں۔آپ کو باہر پھرنا نہ پڑے۔ان کا نسخہ بھی آج تک مجھے پسند ہے۔واقع میں مومن کو ایسا ہی ہونا کی چاہیے۔سنتے ہی نانا جان کہنے لگے نہیں مجھے نہیں ضرورت۔میں خدا کے سوا کسی کا محتاج نہیں ہونا چاہتا۔میں آپ سے نہیں سیکھنا چاہتا مجھے خدا دلائے گا اور اُسی سے مانگوں گا۔آپ سے نسخہ نہیں لیتا۔یہ بھی بڑی اچھی بات ہے۔حضرت خلیفہ اول ان کے پیر بھی تھے، بیعت بھی کی ہوئی تھی۔پھر وہ نسخہ بتانا چاہتے تھے۔عام طور پر غیر احمدی سمجھا کرتے تھے کہ آپ کو کیمیا آتا ہے اور لوگ آیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہمیں کیمیا سکھا دیں۔تو نانا جان پر وہ آپ ہی مہربان ہو گئے اور کہنے لگے میں آپ کو وہ نسخہ بتا دیتا ہوں جس کی وجہ سے جب ہمیں روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے خدا ہمیں آپ ہی مہیا کر دیتا ہے۔مگر نانا جان کہنے لگے نہیں نہیں بالکل نہیں۔میں نہیں سیکھنا چاہتا۔میں تو خدا سے مانگوں گا۔مجھے آپ سے نسخہ لینے کی ضرورت نہیں۔تو دعائیں کرو اور یہ نسخہ بھی یاد رکھو۔وہ بات بھی یاد رکھو جو اس موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اور نانا جان والا نسخہ بھی یاد رکھو اور خدا سے یہ کہو کہ یا اللہ ! تو ہمیشہ ہماری دعائیں قبول کر اور کبھی کسی بندے کا محتاج نہ بنائیں۔ہمیشہ تو اپنا ہی محتاج