خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 576

$1956 576 خطبات محمود جلد نمبر 37 چھڑ والو یا اپنے اموال واپس لے لو۔انہوں نے کہا ہم اپنی قوم سے مشورہ کر لیں۔چنانچہ وہ قوم کے سرداروں کے پاس گئیں اور کہا اس وقت تمہیں یا تو قیدی مل سکتے ہیں اور یا اموال مل ہیں۔تم جو چیز پسند کرو واپس لے لو۔انہوں نے کہا ہمارے قیدی ہمیں واپس کر دیئے جائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا اس قوم کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں۔ان کی ایک عورت نے مجھے دودھ پلایا ہے اور میری پرورش کی ہے۔اب وہ میرے پاس آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں ان کے اموال اور قیدی واپس کر دوں لیکن چونکہ وہ دیر سے آئے ہیں اس لیے میں نے ان کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ یا تو قیدی چھڑوا لو اور یا اپنے اموال واپس لے لو۔صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! اگر اس قوم کے آپ پر احسانات ہیں تو ہم پر بھی احسانات ہیں۔ہم ان کے قیدی چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہیں اور ان کے اموال بھی واپس لوٹا دیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیر سے آنے کی سے میں نے انہیں دوباتوں میں سے ایک کے انتخاب کرنے کا اختیار دیا تھا کہ یا تو وہ اپنے قیدی چھڑوا لیں اور یا اپنے اموال واپس لے لیں اور انہوں نے قیدی چھڑوانے کو پسند کیا ہے۔چنانچہ تم ان کے قیدی انہیں دے دو اور بھیڑ، بکریاں، اونٹ اور دوسرے اموال اپنے پاس رکھو۔چنانچہ صحابہ نے سب قیدیوں کو آزاد کر دیا۔تو فَلْيَسْتَجِبْوَانِي وَلْيُؤْمِنُوالی کا یہ عظیم الشان نمونہ تھا جو صحابہ نے دکھایا۔صحابہ کے سوا اور کوئی قوم نہیں جو جنگ حنین کے سے خطرناک موقع پر خطرہ میں کود پڑی۔یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی قوم تھی جو بے دست و پا ہو چکی تھی لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز اُس کے کان میں پڑی تو وہ خطرہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پروانہ وار آپ کے ارد گرد جمع ہو گئی۔حضرت موسی علیہ السلام کی قوم نے آپ سے کہہ دیا تھا کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ 6 کہ تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو۔ہم یہیں بیٹھے ہیں۔اُس وقت کوئی لڑائی بھی نہیں تھی صرف ایک قوم کو سامنے دیکھ کر انہوں نے یہ کہہ دیا تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے عین جنگ کے موقع ہے اُس کے قدم اکھڑ چکے تھے اور اُس کی سواریاں پیچھے بھاگی جا رہی تھیں اور باو جب باوجود