خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 535

$1956 535 خطبات محمود جلد نمبر 37 عزت بخشے۔وہ خود ایک معمولی زمیندار تھے لیکن بڑے بڑے نوابوں اور رؤساء سے ان کے تعلقات تھے۔جب میں پچھلے سال یورپ کے سفر پر گیا تو ان کے علاقہ کا ایک رئیس جو گورنمنٹ کا سیکرٹری تھا اُس نے مجھے نوٹس دیا کہ آپ کی جماعت تبلیغ کر رہی ہے جس۔فساد کا ڈر ہے۔انہی دنوں اس سیکرٹری سے کوئی غلطی ہوئی تھی جس پر وزیر اعظم نے اسے معطل کر دیا تھا چونکہ اس افسر کا میرے ساتھ اور میرے بچوں کے ساتھ پرانا تعلق تھا دوست محمد صاحب لاہور آئے ہوئے تھے مجھے ملے تو میں نے اُن سے کہا کہ اپنے دوست بیٹے کو کہہ دیں کہ اس نے اس نوٹس کے دینے میں غلطی کی ہے۔شاید یہ ٹھوکر جو اس کو لگی ہے اسی وجہ سے لگی ہے۔اب وہ تو بہ کرے تا کہ اللہ تعالیٰ اس کے قصور کو معاف کرے۔مجھے علم نہیں کہ انہوں نے میرا یہ پیغام اسے پہنچایا یا نہیں کیونکہ بعد میں وہ خود مجھے نہیں ملے۔لیکن وہ سیکرٹری خود مجھے یہاں ملنے کے لیے آئے۔پہلے لاہور میں وہ ہمارے خاندان کے ایک فرد کے پاس گئے اور کہنے لگے میں ربوہ جانا چاہتا ہوں۔اگر آپ اپنا کوئی آدمی میرے ساتھ بھیج دیں تو اچھا ہے۔چنانچہ وہ داؤد احمد کے ساتھ یہاں آئے۔ملاقات کے دوران میں جس خلوص کا انہوں نے اظہار کیا اُس سے معلوم ہوتا تھا کہ اُن کے دل کی صفائی ہو گئی ہے۔ممکن ہے وہ خود ہی نادم ہوئے ہوں اور ندامت کی وجہ سے یہاں آ گئے ہوں۔لیکن دوست محمد خاں۔محمد صاحب حجانہ نے اپنی زندگی میں مجھے کہا تھا کہ میں اس کے پاس جاؤں گا اور کہوں گا کہ تم پر جو یہ عتاب ہوا ہے وہ اس نوٹس کی وجہ سے ہوا ہے جو تم نے بلا وجہ امام جماعت احمدیہ کو دیا تھا۔اس لیے اس پر خدا تعالیٰ کے سامنے ندامت کا اظہار کرو ممکن ہے انہوں نے اسے کہا ہو اور اس وجہ سے وہ یہاں ملاقات کے لیے آیا ہو۔بہر حال وہ ملاقات کے لیے آیا اور اپنے نائب کو بھی ساتھ لایا۔ملاقات کے وقت میں دوسری باتیں ہوتی رہیں۔اس بات کے متعلق اُس نے کوئی ذکر نہیں کیا لیکن ممکن ہے شرمندگی کی وجہ سے اُس نے ذکر نہ کیا ہو۔بہر حال دوست محمد خاں صاحب حجانہ باوجود اس کے کہ ایک معمولی زمیندار تھے ان کے تعلقات نوابوں اور رئیسوں سے تھے اور وہ انہیں بڑے دھڑنے سے تبلیغ کیا کرتے تھے۔الیکشن کے موقع پر بڑے بڑے رؤساء انہیں بلاتے اور کہتے ہماری مدد کریں کیونکہ وہ سمجھتے تھے