خطبات محمود (جلد 37) — Page 534
$1956 534 خطبات محمود جلد نمبر 37 کر دے کیونکہ ہم ہر قدم قدم پر تیری طرف توجہ کرتے ہیں اور تیری رضا کی جستجو کرتے ہیں۔بہر حال یہ دعاؤں کی قبولیت کا ایک نسخہ ہے جو خدا تعالیٰ نے بتایا ہے۔جن دوستوں کو توفیق ملے وہ اس سے فائدہ اُٹھا ئیں اور اپنے لیے بھی اور جماعت کے لیے بھی اپنی دعاؤں کو زیادہ مفید اور کارآمد بنانے کی کوشش کریں۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: نماز کے بعد میں بعض جنازے پڑھاؤں گا۔ہیں۔وہ 60 ایک جنازہ تو دوست محمد خان صاحب حجانہ کا ہے جو 2 نومبر کو فوت ہو ہو گئے انہوں نے 1909ء میں یعنی حضرت خلیفہ اول کے عہد خلافت میں احمدیت قبول کی تھی۔نہایت مخلص اور جو شیلے احمدی تھے۔انہیں تبلیغ کا جنون کی حد تک جوش تھا۔ان کے بیٹے نے مجھے لکھا ہے کہ والد صاحب کی خواہش تھی کہ حضور ان کا جنازہ پڑھائیں اور اپنی زندگی میں بھی وہ مجھے ملتے تھے اس خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے کہ میں ان کا جنازہ پڑھاؤں۔جیسے احمدیت کے سلسلہ میں جو شیلے واقع ہوئے تھے ویسے ہی طبیعت کے لحاظ سے بھی بڑے جوشیلے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ شوری ہو رہی تھی۔ایجنڈا میں یہ تجویز تھی کہ سب احمدی داڑھی رکھا کریں اور جو داڑھی نہ رکھیں اُن کی وصیت منسوخ کر دی جائے۔مجھے یاد نہیں کہ یہ تجویز پاس ہوئی تھی یا نہیں؟ بہر حال جب یہ تجویز پیش ہوئی تو دوست محمد خاں صاحب حجانہ بڑے جوش سے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں اپنی داڑھی منڈوا دوں گا کیونکہ میں اس بارہ میں جبر برداشت نہیں کر سکتا۔میں نے تو صرف اس لیے داڑھی رکھی تھی کہ خدا اور اُس کا رسول اس کی ہدایت دیتا ہے کسی کے جبر کی وجہ سے نہیں رکھی تھی۔اب اگر کوئی شخص مجھے اس بات پر مجبور کرنا چاہتا ہے تو میں اسے برداشت نہیں کر سکتا۔میں نے کہا آپ داڑھی چھوڑ سر بھی منڈوا دیں ہمیں اس کی کیا پروا ہو سکتی ہے۔اس پر وہ رو پڑے اور کہنے لگے مجھے معاف کر دیا جائے مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔اسی طرح ان کی طبیعت اتنی جو شیلی تھی کہ اپنے بیٹے کی ذرا سی بھی پر کہہ دیتے کہ میں اسے عاق کرتا ہوں کیونکہ یہ احمدیت کے کاموں میں پورے جوش سے حصہ نہیں لیتا۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے اور انہیں اگلے جہان میں بھی بڑی غلطی