خطبات محمود (جلد 37) — Page 529
$1956 529 خطبات محمود جلد نمبر 37 درمیانی رات کو دعا کر کے سویا تو پھر پہلے فقرہ کے ساتھ ایک اور فقرہ میری زبان پر جاری ہوا۔اب میں نہیں جانتا کہ آیا یہ وہی فقرہ تھا جو اس سے پہلی رات میری زبان پر جاری ہوا تھا۔اور مجھے بھول گیا تھا یا اس کے ہم معنے یا ہم مضمون کوئی اور فقرہ ہے۔بہر حال چاہے وہ فقرہ وہی ہے جو پہلی رات میری زبان پر جاری ہوا تھا یا اُس کا قائمقام کوئی اور فقرہ ہے جب میں وہ فقرے پڑھتا تھا تو میرے دل میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کی دعاؤں کی قبولیت کے لیے ایک راستہ کھولا ہے۔اگر جماعت کے دوست اپنی دعاؤں میں ان دونوں فقروں کا استعمال کریں گے تو ان کی دعائیں پہلے سے زیادہ مقبول ہوں گی۔یہی سوچتے سوچتے میں وہ۔فقرہ کہتا چلا گیا پھر میری آنکھ کھل گئی۔اب پہلے دن کا دوسرا فقرہ تو مجھے یاد نہیں رہا۔میں نے بتایا ہے کہ وہ مجھے بھول گیا تھا لیکن لاہور میں دوسری دفعہ ایک اور فقرہ پہلے فقرہ کے ساتھ ملا کر میری زبان پر جاری کیا گیا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا یہ بعینہ وہی فقرہ ہے جو بھول گیا تھا یا اُس کے ہم معنے کوئی اور فقرہ ہے۔بہر حال وہ فقرہ اگر وہی ہے تو بھی اور اگر اُس کے ہم معنی ہے تو بھی میں اس کو اور پہلی رات والے فقرہ کو جو یاد رہا بیان کرتا ہوں جن کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ ہماری جماعت کی دعاؤں کو زیادہ سننے کے لیے بیان فرمایا ہے۔یعنی اگر جماعت اپنی دعاؤں میں ان فقروں کو کہے گی تو اس کی دعائیں زیادہ سنی جائیں گی۔وہ پہلا فقرہ جو مجھے یاد رہا تھا وہ تو یہ تھا ہم قدم قدم پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں“ اور دوسرا فقرہ جو مجھے بھول گیا اور پھر لاہور جا کر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کو دوباره میری زبان پر جاری ہوا جو یا تو وہی فقرہ تھا جو بھول گیا یا اُس کے ہم معنی کوئی اور فقرہ تھا وہ یہ تھا اور اُس کی رضا کی جستجو کرتے ہیں“ مجھے بتایا گیا ہے کہ اگر یہ فقرے ہماری جماعت کے دوست پڑھیں گے تو اُن کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔میں نے بعد میں ان پر غور کیا اور سمجھ لیا کہ اس میں واقع میں