خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 521

$1956 521 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس لیے سب دوست ابھی سے ایسے دوستوں کو کہنا شروع کر دیں کہ اس سال جلسہ کے موقع پر ربوہ چلیں۔وہاں جا کر کچھ خدا کی باتیں سن لینا۔اور اگر تقریریں نہ سنی ہوں تو میلہ ہی دیکھ لینا۔پس چاہے وہ کس ذریعہ سے آئیں انہیں یہاں لانے کی کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود امی علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے 1 یعنی شعر و شاعری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں لیکن بعض لوگ چونکہ شعر کے شوقین ہوتے ہیں اس لیے اگر وہ دین کی باتیں شعروں میں سن لیں تو ہمارا کیا حرج ہے۔اسی طرح اگر بعض غیر احمدی دوست یہاں میلہ دیکھنے کے لیے ہی آجائیں لیکن یہاں آ کر اُن کا خدا اور اُس کے رسول سے میل ہو جائے تو اس میں ہمارا کیا حرج ہے۔پس آپ لوگ ابھی سے اپنے غیر احمدی دوستوں میں تحریک کریں کہ وہ جلسہ سالانہ کے موقع پر یہاں آئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ سالانہ کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے۔آپ نے ایک موقع پر ایک بڑی درد ناک بات کہی۔فرمایا کہ دوست جلسہ پر ضرور آئیں۔پتا نہیں انہیں اگلے سال کے بعد مجھے دیکھنا نصیب ہو یا نہیں۔وہ یہاں آئیں گے تو کم از کم مجھے تو دیکھ لیں گے۔ہماری جماعت میں کئی لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں پر اس فقرہ سے ایسی ٹ لگی کہ انہوں نے اُس وقت سے مرکز میں آنا شروع کیا اور اب تک جلسہ سالانہ کے پر ہر سال مرکز میں آ رہے ہیں۔1891ء میں پہلا سالانہ جلسہ ہوا تھا اور اب 1956 ء آ گیا ہے۔گویا چونسٹھ سال ہو گئے مگر بعض لوگ ایسے ہیں جو چونسٹھ سال سے متواتر ہر سال جلسہ سالانہ دیکھتے چلے آئے ہیں۔مثلاً کل ہی میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے فوت ہوئے ہیں انہوں نے 18ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی جس پر اب اکسٹھ سال گزر چکے ہیں۔گویا 1895ء کے بعد انہوں نے اکسٹھ جلسے دیکھے۔ان کے ایک لڑکے نے بتایا کہ والد صاحب کہا کرتے تھے کہ میں نے جس وقت بیعت کی اُس کے وقع 1895