خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 515

$1956 515 خطبات محمود جلد نمبر 37 کھانے کا خرچ جو اُس نے گھر میں نہیں کھایا دے دے اور پھر اتنے ہی وہ مہمان سمجھ لے جو آب بجائے اُس کے گھر جانے کے تین چار دن کے لیے سلسلہ کے مہمان بن گئے ہیں اور ان کا بھی خرچ دے دے۔مثلاً ایک گھر کے سات افراد ہیں اور وہ جلسہ سالانہ پر آتے ہیں تو وہ سات افراد کے کھانے کا خرچ الگ دے اور سات مہمانوں کا بھی دے اور سمجھ لے کہ وہ سات مہمان اُس کے گھر آئے ہیں۔گویا وہ چودہ گس کے لیے تین دن کا خرچ دے دے اور سمجھ لے کہ گھر کا خرچ بھی چل گیا اور مہمانوں کا خرچ بھی پورا ہو گیا۔بعض دوست کہہ سکتے ہیں کہ یہاں آنے کے لیے جو سفر پر کرایہ خرچ ہوتا ہے وہ تو ایک زائد بوجھ ہوتا ہے۔یہ بات ٹھیک ہے لیکن سارے سال میں کوئی نہ کوئی سیر بھی لوگ کیا ہی کرتے ہیں اس کو بھی تم سیر ہی سمجھ لو۔سیر میں بھی لوگ ریل یا موٹر میں بیٹھ کر سفر کرتے ہیں اور کرایہ پر کچھ نہ کچھ رقم خرچ آتی ہے اور یہاں بھی وہ ریل یا موٹر میں ہی بیٹھ کر آتے ہیں پھر یہ زائد بوجھ کیسے ہوا؟ پھر لوگ اپنے رشتہ داروں کو ملنے کے لیے جاتے ہیں اور یہاں بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر سب دوست آپس میں ملتے ہیں۔پھر یہاں اتنے نکاح ہوتے ہیں کہ میرے خیال میں دوسری جگہوں پر سال بھر میں بھی اتنے نکاح نہیں ہوتے جتنے یہاں ، دن میں جلسہ سالانہ کے موقع پر ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ جب میری صحت اچھی تھی تو قادیان میں جلسہ سالانہ کے موقع پر میں مسجد مبارک میں دو دو سو ، اڑھائی اڑھائی سو بلکہ بعض دفعہ چار چار سو نکاح پڑھا کرتا تھا۔گویا دوستوں نے شادیوں اور بیاہوں پر اپنی اپنی جگہ جو خرچ کرنا ہوتا ہے وہ بھی یہاں آ کر اُڑ جاتا ہے۔غرض سیر بھی ہو گئی ، دوستوں سے بھی کی مل لیا اور شادیوں اور بیاہوں میں بھی حصہ لے لیا۔پس اگر یہاں آنے میں کسی کا کچھ زیادہ بھی خرچ ہو جائے تو کیا ہوا اُس کے تین اور کام بھی تو ہو گئے جو اُسے بہر حال کرنے پڑتے خواہ وہ جلسہ پر آتا یا نہ آتا۔کیونکہ اگر کوئی شادی ہوتی ہے تو سارا خاندان مل کر منگنی یا نکاح کے لیے جاتا ہے اور وہ کام یہاں مفت ہو جاتا ہے۔پھر شادیوں میں مہمان آتے ہیں تو اُن کو کھانا کھلانا پڑتا ہے لیکن یہاں خود شادی والے بھی لنگر میں کھانا کھاتے ہیں اور مہمان بھی لنگر میں کھانا کھاتے ہیں۔غرض اگر ایک طرف خرچ بڑھتا ہے تو دوسری طرف تین چار اور کام بھی