خطبات محمود (جلد 37) — Page 506
$1956 506 خطبات محمود جلد نمبر 37 گزرے گا کہ وہ اس مدد کے اعلان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان لوگوں سے بے تعلق ہو جائیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہے۔کسی بڑے آدمی کی طرف منسوب ہونا ان باغیوں کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور پیغام صلح والے اپنے وعدے جھوٹے ثابت کریں گے اور کبھی وقت پر ان کی مدد نہیں کریں گے۔غرض پیغام صلح کا یہ مضمون اس بات کی شہادت ہے کہ میری یہ رویا پوری ہو گئی ہے اور اس کا یہ کہنا کہ میں اپنی خوابوں کو وحی نبوت کا مقام دیتا ہوں جھوٹ ہے۔صرف ایک کچی بات کو سچی کہا گیا ہے۔اور اگر کوئی شخص کسی سچی بات کو جھوٹ کہتا ہے تو وہ خود کذاب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو بھی دنیا جھوٹا کہتی تھی لیکن دیکھ لوکس طرح خدا تعالیٰ ایک جماعت کو آپ کے پاس کھینچ لایا اور دنیا نے مان لیا کہ آپ کے الہامات کو جھوٹا کہنے والے خود جھوٹے تھے۔ابھی مجھے ایک انگریز تو مسلم نے لکھا ہے کہ آپ کے وہ رؤیا کشوف جو اب تک پورے ہو چکے ہیں انہیں ایک رسالہ کی صورت میں شائع کرائیں تا کہ ہم دنیا کو بتا سکیں کہ خدا تعالیٰ اب بھی کلام کرتا ہے اور اپنے بندوں کو غیب پر آگاہ کرتا ہے۔چنانچہ میں نے مولوی دوست محمد صاحب کو کہا ہے کہ وہ ایسی خوابوں اور الہامات کو جمع کریں تا کہ انہیں شائع کیا جا سکے اور دنیا کو بتایا جائے کہ وحی وکشوف کا سلسلہ بند نہیں ہو گیا بلکہ وہ اب بھی جاری ہے اور خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب پر اطلاع دیتا ہے۔اب دیکھو یہ کتنی عجیب بات ہے کہ غیر مبائعین تو کہتے ہیں کہ میں اپنے الہامات اور خوابوں کو وحی نبوت کا درجہ دے رہا ہوں۔لیکن دو ہزار میل سے ایک انگریز نو مسلم مجھے لکھتا ہے کہ آپ اپنی خوابوں اور الہامات کو جلد شائع کرائیں تا کہ ہم دنیا کے سامنے انہیں حجت کے طور پر پیش کر سکیں اور اسے بتا سکیں کہ خدا تعالیٰ اس بھی اپنے بندوں کو غیب پر اطلاع دیتا ہے۔کل بھی میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ رؤیا ہندوؤں میں تبلیغ کے متعلق ہے۔اس لیے میں اسے بھی بیان کر دیتا ہوں۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک چار پائی پر کھڑا ہوں۔ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف چودھری اسد اللہ خاں صاحب ہیں