خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 464

$1956 464 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور ان کے کاموں کی نوعیت بیان کی گئی ہے۔پھر منافقوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کافروں کا کی بھی ذکر کیا گیا ہے۔غرض تمام قو میں جو اسلام کے ساتھ کچھ تعلق رکھتی تھیں یا اس سے ٹکراتی ہے تھیں ان میں سے کسی کے حال کا اور کسی کے مستقبل کا ذکر اس جگہ کر دیا گیا ہے۔اس طرح مختلف مضامین اس چھوٹی سی جگہ یعنی دس بارہ آیتوں میں ہی بیان کر دیئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَوْ أَمَنَ اَهْلُ الكتب لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفُسِقُوْنَ - 1 اس آیت پہلے تو مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ تمہارے پیدا کرنے کی ضرورت کیا تھی۔فرماتا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم دنیا کی تمام قوموں میں سے بہتر قوم ہو۔اس لیے کہ کوئی قوم دنیا میں ایسی نہیں جو تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لیے کھڑی ہوئی ہو۔لیکن تم ایسی قوم ہو کہ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم کو ساری دنیا کی بھلائی اور فائدہ کے لیے گیا ہے۔باقی قومیں اول تو مذہبی حد بندیوں کے باعث اپنے ہی فائدہ کے لیے کھڑی ہوئی ہیں۔جیسے عیسائی اور یہودی کہ اُن کا دائرہ عمل صرف اپنی قوم تک محدود تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے کالے اور گورے سب کے لیے مبعوث فرمایا ہے اور فرمایا میری امت میں عربی اور عجمی کا کوئی فرق نہیں 2 کیونکہ عجمی بھی میری امت میں ہیں اور عربی بھی میری امت میں ہیں۔اس لیے چاہے کوئی عجمی ہو اس کے بھی وہی حقوق ہیں اور چاہے عربی ہو اس کے بھی وہی حقوق ہیں۔کسی سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔اسی طرح معاہد قوم اور خود اپنی قوم میں بھی کوئی فرق نہیں کیا جائے گا بلکہ سب کے ساتھ انصاف اور عدل سے کام لیا جائے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سب سے پہلے کچھ غلام ایمان لائے۔اُن کا جو ادب اور احترام کیا گیا اُس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔غلام دنیا میں ہر جگہ ہی ذلیل رہے ہیں سوائے اسلام کے جس نے انہیں بہت بڑی عزت دی ہے۔قربانیاں تو انہوں نے بڑی بڑی ہیں۔رومی قوم کے غلاموں کو دیکھ لو، ایرانی قوم کے غلاموں کو دیکھ لو انہوں نے کی