خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 428

$1956 428 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کریم کے نازل کرنے والی ہستی کو تو ان اعتراضات کا علم تھا جو بیسویں صدی کے عیسائی مصنفین نے کرنے تھے لیکن ان عیسائیوں کو خود بیسویں صدی میں بھی یہ علم نہیں کہ ہم نے ان آیتوں کی کیا تفسیر کرنی ہے۔وہ ایک آیت پر اعتراض کرتے ہیں لیکن اس آیت کی جب ہم تفسیر کرتے ہیں تو ان کا اعتراض رڈ ہو جاتا ہے اور اس طرح قرآن کریم کی فضیلت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے۔یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ یہ کلام کسی انسان کا بنایا ہوا نہیں بلکہ عالم الغیب خدا کا اُتارا ہوا ہے اور اس کثرت سے اس میں علم غیب بھرا ہوا ہے کہ ہر آیت سے کوئی نہ کوئی نیا نکتہ نکل آتا ہے۔گویا جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ اینٹ اینٹ کے نیچے فلاں چیز موجود ہے۔اسی طرح تم کوئی آیت اُٹھاؤ اس کے نیچے سے ایک معجزہ نکل آتا ہے اور اس طرح قرآن کریم سارے کا سارا معجزوں سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کسی شخص نے آپ سے سوال کیا کہ قرآن کریم میں مومنوں کے متعلق أُولَبِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَّبِّهِمْ 6 آتا ہے حالانکہ یہاں عَلَى هُدًی کی بجائے أُولَئِكَ يُهْدَوْنَ إِلَى الْھدی ہونا چاہیے تھا یعنی ان کو ہدایت کی طرف لے جایا جاتا ہے۔علی کا استعمال یہاں کس حکمت کے ماتحت کیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا علی ھدی کے یہ معنے ہیں کہ مومن اس طرح ہدایت پر سوار ہوتا ہے جیسے کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہو۔گویا جس طرح گھوڑا سوار کے تابع ہوتا ہے اسی طرح ہدایت مومن کے قبضہ میں ہوتی ہے اور وہ اس پر سوار ہو کر اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔گویا معترض نے جس آیت پر اعتراض کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُسی سے اُس کے اعتراض کو رڈ کر دیا اور قرآن کریم کی برتری اور اس کی فضیلت کو ثابت کر دیا۔پس قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے پہلے اس بات پر ایمان لائے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کلام ہے۔اس کے بعد وہ دشمن کے اعتراضات کو پڑھے اور یقین کرے کہ ہر اعتراض کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے۔وہ کسی اعتراض کو بلا وجہ رڈ نہ کرے بلکہ انصاف سے اس پر غور کرے اور دیکھے کہ اعتراض