خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 389

$1956 389 خطبات محمود جلد نمبر 37 حالانکہ وہ اُس وقت گورنمنٹ پاکستان کے ملازم نہیں تھے۔وہ اُس وقت ریاست بھوپال کے ملازم تھے۔پاکستان نے اُن پر یہ احسان کیا کہ جتنی تنخواہ وہ بھوپال سے لیا کرتے تھے اُس سے آدھی تنخواہ دے کر انہیں پاکستان بلا لیا۔چودھری صاحب اُس وقت میرے پاس آئے اور کہنے لگے قائد اعظم کہتے ہیں کہ تم پاکستان آ جاؤ۔میں نے کہا آپ ضرور آ جائیں۔اس وقت پاکستان کو آپ کی ضرورت ہے۔روپیہ کو آپ نے کیا کرنا ہے؟ آپ اپنی بڑی نوکری چھوڑ کر جائیں اور پاکستان کی خدمت کریں۔چنانچہ وہ پاکستان آگئے لیکن 1953 ء میں پاکستانیوں نے انہیں یہ بدلہ دیا کہ انہیں گالیاں دیں، اُن کے خلاف جلوس نکالے اور کُتوں اور گدھوں کو جلوس کے آگے لگا کر کہا کہ یہ چودھری ظفر اللہ خان ہیں۔غرض ایک وقت میں یہ لوگ ہم پر حکومت در حکومت قائم کرنے کا اعتراض کرتے ہیں اور دوسرے وقت خود منتیں کر کر کے کہتے ہیں کہ آپ فلاں معاملہ میں دخل دیں، آپ فلاں کام کر دیں۔میں نہیں جانتا کہ وہ وقت کب آئے گا لیکن مجھے یقین ہے کہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد یہی اخبار جو اب لکھ رہے ہیں کہ ربوہ میں حکومت در حکومت ہے خود یا ان کا کوئی رشتہ دار آئے گا اور کہے گا فلاں معاملہ میں دخل دیں، فلاں سے ہماری صلح کرا دیں۔اور جب میں کہوں گا یہ تو حکومت در حکومت ہے تو وہ کہیں گے وہ تو کسی بیوقوف نے لکھ دیا تھا ہم تو اس بات کے قائل نہیں۔غرض اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں کہ لوگوں نے ہم پر حکومت در حکومت قائم کرنے کا الزام لگایا اور بعد میں خود ہی ہمارے پاس آئے اور کہا ہمارا فلاں کام کرا دیں، ہماری فلاں سے صلح کرا دیں۔ہائیکورٹ میں ایک دفعہ لاہور کے ایک بڑے خاندان کا مقدمہ تھا۔جوں نے فریقین سے کہا کہ آپ ایک معزز خاندان میں سے ہیں۔کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ اتفاق رائے سے کسی شخص کو اپنا ثالث مقرر کر لیں اور اس سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروا لیں؟ اُن میں سے ایک واب صاحب نے جن کو جائز وارث قرار دیا گیا تھا میرا نام لیا اور کہا میں اُن کو ثالث مقرر کرتا ہوں۔اُن کا دوسرا رشتہ دار جو اب فوت ہو چکا ہے وہ بھی نواب یا نواب زادہ کہلاتا تھا اُس نے ہوشیاری سے کام لیا۔اُس نے یہ تو نہ کہا کہ میں انہیں ثالث منظور نہیں کرتا کیونکہ