خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 390

$1956 390 خطبات محمود جلد نمبر 37 اُن کے خاندان سے ہمارے پرانے تعلقات تھے اور وہ میرے نام کو بطور ثالث کے نامنظور نہیں کر سکتے تھے۔انہوں نے کہا اگر وہ ثالث مقرر ہو جائیں تو بڑی اچھی بات ہے۔مگر مجھے علم ہے کہ انہیں فرصت نہیں ہوتی۔ہاں اگر اُن کی جگہ مرزا بشیر احمد صاحب کو مقرر کر دیا جائے تو بہتر ہو گا۔بہر حال جس فریق نے میرا نام پیش کیا تھا اُسے مجھ پر زیادہ یقین تھا۔گو حسابات کے معاملہ میں مرزا بشیر احمد صاحب اچھے ہیں۔دوسرے فریق کی بات سن کر وہ اُس وقت تو چُپ ہو گئے مگر بعد میں وہ قادیان آئے۔ملک غلام محمد صاحب قصور والے بھی ان کے دوست تھے اور اُس وقت اُن کے ساتھ تھے۔وہ کہنے لگے ہائیکورٹ نے ہمیں مشورہ دیا تھا کہ ہم کسی کو ثالث مقرر کر لیں۔جس پر میں نے آپ کا نام لیا تھا۔میں نے کہا آپ نے بڑی غلطی کی آپ کے نام پیش کرنے کی وجہ سے فریق ثانی نے سمجھا ہو گا کہ آپ مجھ سے ملے ہوئے ہیں اس لیے آپ نے میرا نام پیش کیا ہے۔میں تو وہی کروں گا جو انصاف ہو گا۔لیکن اگر فیصلہ آپ کے خلاف ہوا تو آپ شور مچائیں گے کہ مرزا صاحب فریق ثانی کے ساتھ مل گئے ہیں۔اور اگر فیصلہ آپ کے حق میں ہوا تو فریق ثانی کہے گا کہ وہ تو پہلے سے ہی ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔اسی لیے انہوں نے بطور ثالث ان کا نام پیش کیا تھا۔چنانچہ بعد میں یہی ہوا۔1953 ء میں جب فسادات ہوئے اُس وقت اصل نواب صاحب تو فوت ہو گئے تھے۔اُن کے دوسرے بھائی نے جو اُس وقت گورنمنٹ میں وزیر تھے ہماری مخالفت میں لیڈنگ پارٹ لیا کیونکہ انہوں نے اپنے دل میں یہ خیال کر لیا تھا کہ یہ فریق ثانی کے ساتھ مل گئے ہیں۔اگر یہ ثالث مقرر ہو جاتے تو انہوں نے ہماری مخالفت کرنی تھی۔اس لیے آؤ ہم ان کی مخالفت کریں اور ان سے بدلہ لیں۔غرض اللہ تعالیٰ جلد یا بدیر ایسا موقع پیدا کر دیتا ہے کہ وہی لوگ جو ایک وقت ہم پر حکومت در حکومت قائم کرنے کا الزام لگاتے ہیں دوسرے وقت ہمارے پاس مدد کے لیے آ جاتے ہیں۔سر فضل حسین صاحب مرحوم کے ساتھ میرے بڑے اچھے تعلقات تھے۔گو وہ اپنی زندگی میں مجھ سے اس بات پر ناراض رہتے تھے کہ میں سیاسیات میں دخل دے دیا کرتا ہوں۔وہ کہا کرتے تھے کہ آپ مذہبی آدمی ہیں آپ مذہب سے سروکار رکھیں اور سیاسیات