خطبات محمود (جلد 37) — Page 362
$1956 362 خطبات محمود جلد نمبر 37 نے حضرت اماں جان سے شادی کر لی تھی اس لیے آپ کی پہلی بیوی کے رشتہ دار آپ سے مخالفت رکھنے لگ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی بیوی ایک بہت ہی نیک عورت تھیں۔میں نے دیکھا ہے وہ ہم سے اتنی محبت کرتی تھیں کہ کہنے کو تو لوگ کہتے ہیں کہ ”ماں سے زیادہ چاہے پھا پا کٹنی کہلائے، مگر واقع یہ ہے کہ ہم بچپن میں یہی سمجھتے تھے کہ وہ ہم سے ماں سے بھی زیادہ پیار کرتی ہیں۔ہماری بڑی بہن عصمت جب فوت ہوئیں تو اُن کی دنوں چونکہ محمدی بیگم کی پیشگوئی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ داروں نے ایک مخالفانہ اشتہار شائع کیا تھا اس لیے ہمارے اور اُن کے گھر کے درمیان کا جو دروازہ تھا وہ ت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بند کروا دیا تھا۔حضرت اماں جان نے سنایا کہ جب عصمت بیمار ہوئی اور اُس کی حالت نازک ہو گئی تو جس طرح ذبح ہوتے وقت مرغی تڑپتی۔وہ تڑپتی اور بار بار کہتی کہ میری اماں کو بلا دو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام - انہیں بلوایا۔جب وہ آئیں اور انہوں نے عصمت کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا تو اُسے آرام اور سکون حاصل ہوا اور تب اُس کی جان نکلی۔غرض وہ بہت ہی نیک عورت تھیں اور اُن کو اپنی سوکن کے بچوں سے بہت زیادہ محبت تھی۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی وہ بڑی محبت رکھتیں اور آپ کی بڑی قدر کرتی تھیں اور آپ کے متعلق کسی سے وہ کوئی بُری بات نہیں کہتی تھیں۔مگر اُن کے بھائی بڑے متعصب تھے اور وہ آنے والے احمدیوں کو ورغلاتے ہتے تھے اور کہتے تھے میں تو اس کا بھائی اور رشتہ دار ہوں میں جانتا ہوں کہ اس نے صرف ایک دکان کھول رکھی ہے اور کچھ نہیں۔اور کئی کمزور لوگوں کو دھوکا لگ جاتا کہ جب بھائی یہ بات کہہ رہا ہے تو ٹھیک ہی ہو گی۔، ایک دفعہ تحصیل کھاریاں کے یہی پانچوں بھائی قادیان آئے۔اُس وقت تک ابھی مقبرہ بہشتی نہیں بنا تھا۔یہ اس سے بہت پہلے کی بات ہے۔اُس زمانہ میں جولوگ قادیان آیا کرتے تھے انہوں نے متبرک مقامات کی زیارت کے لیے یا تو مسجد مبارک میں چلے جانا یا حضرت خلیفہ اول کی مجلس میں چلے جانا اور یا پھر ہمارے دادا کے باغ میں چلے جانا۔وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد کا باغ ہے اس لیے یہ بھی متبرک جگہ ہے۔