خطبات محمود (جلد 37) — Page 316
$1956 316 خطبات محمود جلد نمبر 37 قتل کے بعد حضرت علیؓ کے ساتھ جا ملے تھے اُنہی میں سے ایک جماعت حضرت علیؓ سے الگ کی ہو گئی اور اُس نے حضرت علی کو کافر کہنا شروع کر دیا۔آخر حضرت علیؓ نے ان پر تلوار اُٹھائی اور ایک ہی دن میں دس ہزار خارجی قتل کر کے رکھ دیا۔گویا وہ لوگ جنہوں نے عثمان کو علی کے نام سے مارا تھا انہوں نے پھر علی کے خلاف بغاوت کر دی اور آخر حضرت علی بھی انہی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔اس کے بعد یہ اختلاف بڑھتا چلا گیا اور مسلمان کبھی ایک ہاتھ پر جمع نہ ہوئے۔اب تیرہ سو سال کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو پھر ایک ہاتھ پر جمع کیا جائے اور ان کے اندر اتحاد اور یک جہتی پیدا کی جائے مگر اب پھر بعض خبیث اور بد باطن چاہتے ہیں کہ اس اتحاد کو توڑ دیں اور جماعت میں افتراق اور انتشار پیدا کر دیں۔مگر ان کی ان کارروائیوں کا سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ان پر برسے گی۔خدا تعالیٰ کے نزدیک سلسلہ کا اتحاد دس ہزار نورالدین سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔اور گدھے ہیں وہ جو ان کا نام لے کر فتنہ پھیلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ خلیفہ اول تھے۔اگر وہ خلیفہ اول تھے تو نظام سلسلہ کے قائم کرنے کے لیے نہ کہ اس کو تباہ و برباد کرنے کے لیے۔اگر کوئی شخص ان کا نام لے کر اس نظام کو توڑتا ہے تو وہ خود نورالدین پر قاتلانہ حملہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے اسے نورالدین ہر گز بچا نہیں سکے گا۔خدا تعالیٰ ان سے کہے گا کہ میں نے تجھے اس لیے عزت نہیں دی تھی کہ تیرا نام لے کر یہ لوگ میرے سلسلہ اور نظام پر حملہ کریں اور اُس وقت شرم کے مارے حضرت خلیفہ اول کی گردن جھک جائے گی جس طرح ابوبکر کی گردن شرم کے مارے جھک جائے گی جن کے بیٹے نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور آپ کے پیارے خلیفہ پر حملہ کیا۔بیشک بہانے بناے والے ہزاروں بہانے بنائیں گے مگر جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے وَلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ۔اب ان کے بہانے ختم ہو چکے ہیں اور ان کے لیے بھاگنے کا کوئی رستہ باقی نہیں رہا۔سلسلہ کی خدمت کا اب ایک ہی طریق ہے کہ وہ خلافت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھیں۔اگر وہ اپنی فتنہ پردازیوں سے باز نہیں آئیں گے تو ایک نورالدین کیا نوح اور موسی