خطبات محمود (جلد 37) — Page 315
$1956 315 خطبات محمود جلد نمبر 37 جائیں گے۔چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے اُن کا بیٹا عمرو بن سعد امام حسین کا قاتل بنا۔پس آپ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو وہ کس باپ کا بیٹا تھا اور اس نے کیسا ظالمانہ فعل کیا۔حسینؓ کے نانا سے اس کے باپ کو عزت ملی تھی مگر بجائے اس کے کہ وہ اس عزت کی قدر کرتا اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسہ کو قتل کر دیا۔آپ فرماتے تھے میں جب بھی اس واقعہ پر غور کرتا ہوں مجھے ہمیشہ افسوس آتا ہے اور دل میں خیال آتا ہے کہ انسان کو کیا پتا ہوتا ہے کہ اُس کی اولاد کیسی بننے والی ہے۔اگر کسی کے ہاں ایسی اولاد ہونے والی ہو تو اِس سے اُس کا بے اولا د رہنا ہی اچھا ہوتا ہے۔اب وسعد کی سب مسلمان تعریف کرتے ہیں مگر سعد کو کیا پتا تھا کہ جب میں مر جاؤں گا تو میرا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسہ کو قتل کرنے والوں میں شامل ہو جائے گا۔پس آپ ہمیشہ آہ بھرتے اور فرماتے جب سعد کے ہاں یہ بٹیا پیدا ہوا ہو گا تو اُسے کیا پتا تھا کہ ایک دن یہی بیٹا میرے آقا کے نواسہ کو مارے گا۔پس ان باتوں کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن پھر بھی ان واقعات کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔حضرت عثمان کے زمانہ میں لوگوں سے یہی غلطی ہوئی کہ بعض صحابہ نے سمجھ لیا کہ یہ یونہی ایک معمولی سا فتنہ ہے اس کا کیا مقابلہ کرنا ہے۔جب حضرت عثمانؓ پر تلوار اُٹھائی گئی تو آپ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ بختو! میں تو اسی سال کا بڑھا ہوں میں نے ایک دن مرنا ہی تھا لیکن اب جو تم مجھ پر تلوار اُٹھا رہے ہو تو یاد رکھو! میرے قتل کے بعد قیامت تک مسلمان ان دوانگلیوں کی طرح پھٹے رہیں گے اور وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔7- تمہارے اتحاد کا واحد ذریعہ یہ تھا کہ تم خلافت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہتے۔میں نے تو مر جانا تھا۔اسی سال میری عمر ہو چکی تھی۔اب میں اور کتنا زندہ رہتا مگر میرے قتل کے بعد تم کبھی اتحاد سے نہیں رہو گے۔چنانچہ دیکھ لو حضرت عثمان کو قتل کرنے والے زیادہ تر حضرت علی سے اپنا تعلق جتاتے تھے مگر حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ نے اُن سے کیا سکھ پایا۔پہلے جنگِ جمل ہوئی جس میں ہزاروں مسلمان مارے گئے۔پھر معاویہؓ نے حملہ کر دیا۔اور پھر وہی لوگ جو حضرت عثمان کے