خطبات محمود (جلد 37) — Page 301
$1956 301 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہم اپنا ہاتھ دوسرے ملکوں کے آگے پھیلائے ہوئے ہیں اور اگر کوئی ٹھڈا بھی مارتا ہے تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ایک وقت تھا جب انگلستان پر سپین کی فوج چڑھ آئی تو انگلستان کی ملکہ نے ترکوں کو خط لکھا کہ میں نے مسلمانوں کی روایات سنی ہیں کہ وہ عورتوں کی مدد کیا کرتے ہیں۔اس وقت دشمن نے میرے ملک پر حملہ کر دیا ہے۔میں آپ کو اسلام کی غیرت دلاتی ہوں اور درخواست کرتی ہوں کہ میری اس بے بسی اور بے کسی کی حالت میں میری مدد کی جائے۔میں نے یورپ کے سفر کے دوران میں وہ مکان دیکھا ہے جس میں ترک جرنیل اُترے۔وہاں اب بھی دیواروں پر لَا اِلهَ إِلَّا اللہ لکھا ہوا ہے۔انگریزوں کو علم نہیں تھا کہ یہ کیا لکھا ہے۔وہ اسے سنگھار کی بیلیں خیال کرتے ہیں۔میں نے انہیں بتایا کہ یہ سنگھار کی بیلیں نہیں بلکہ لَا اِلهَ اِلَّا الله لکھا ہوا ہے۔اب کہاں یہ حالت کہ ایک وقت جب انگلستان پر دشمن کی فوجیں چڑھ آئیں تو اس کی ملکہ ترکوں سے مدد کی درخواست کرتی ہے اور لکھتی ہے کہ مسلمان عورتوں کی مدد تے چلے آئے ہیں۔میں بھی ایک بے بس اور بے کس عورت ہوں آپ لوگ میری مدد ہیں۔اور کہاں یہ حالت کہ وہ یوربین طاقتوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے پھرتے ہیں۔پھر ایک وقت تھا کہ جب ترکوں کو چین سے نکال دیا گیا لیکن پھر ایک زمانہ آیا جب انہوں نے دوسرے ممالک کے علاوہ روس کو بھی فتح کر لیا۔اب پھر انہیں روس دھمکاتا ہے تو وہ ڈر جاتے ہیں۔جب ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا تو انہیں اس قدر تکلیف نہیں تھی جتنی اب ہے کیونکہ اب یہ چیزیں ایک دفعہ مل کر ان سے چھین لی گئی ہیں۔جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایک زمانہ میں روس بھی ان کے ماتحت تھا اور اب وہ انگلستان، ترکی، پاکستان، عراق اور ایران سے مل کر بغداد پیکٹ 5 میں شامل ہوئے ہیں تا کہ وہ سب مل کر روس کا دفاع کر سکیں تو انہیں کتنی تکلیف ہوتی ہو گی حالانکہ ایک وقت وہ بھی تھا جب ان سے ڈر کر پانچ سو میل کے فاصلہ پر بیٹھے ہوئے روس کے بادشاہ کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔پس زمانہ بدلتا رہتا ہے۔جب انسان کے پاس نعماء نہیں ہوتیں تو وہ زیادہ دکھ محسوس نہیں کرتا لیکن جب ایک دفعہ نعمتیں مل جاتی ہیں اور پھر چھین لی جاتی ہیں تو اسے بہت زیادہ دکھ ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوة مِنْ يَوْمِ