خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 300

$1956 300 خطبات محمود جلد نمبر 37 بہت سخت ہے۔میں تمہیں ایسی سزا دوں گا کہ تم حسرت سے کہو گے کہ خدا کرے ہمیں نعمتیں دوبارہ میسر آ جائیں جو ہمیں پہلے ملی تھیں۔وہ پس بدقسمت ہے وہ انسان جو یوم الجمعہ کے وقت خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے اور یہی خیال نہیں کرتا کہ یہ یوم الجمعہ بھی خدا تعالیٰ لایا ہے اور اگر اس نے ناشکری کی اور غرور میں آ گیا تو وہ اسے سخت سزا دے گا۔تم دیکھ لو جب مسلمان تھوڑی تعداد میں تھے تو انہوں نے اُس وقت کی معلومہ دنیا فتح کر لی۔لیکن جب ان کی تعداد بڑھ گئی تو وہ خدا تعالیٰ کو بھول گئے اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ انہیں جو کچھ ملا ہے وہ ان کی عقل اور ان کے تدبر کے نتیجہ میں ملا ہے۔آخر وہ رُسوا ہو کر رہ گئے۔اگر انسان طاقت اور قوت کے مل جانے پر غرور نہ کرے بلکہ خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بن جائے تو خدا تعالیٰ اس کی طاقت میں روز بروز زیادتی کرتا چلا جاتا ہے۔لیکن اگر وہ اس طاقت وقوت کا غلط استعمال کرنے لگ جائے اور اسے خدا تعالیٰ کی بجائے اپنے نفس کی طرف منسوب کرنا شروع کر دے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اگر خدا تعالیٰ کو دینا آتا ہے تو اُسے چھینا بھی آتا ہے۔اور کسی نعمت کا نہ ملنا اتنا بڑا عذاب نہیں جتنا نعمت دے کر چھین لینا عذاب ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھائی ہے کہ اے اللہ ! فراخی کے بعد ہم پر تنگی کا زمانہ نہ آئے کیونکہ فراخی کے بعد تنگی آئے تو تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔جب کچھ بھی پاس نہ ہو تو تکلیف کا احساس کم ہوتا کوئی نعمت دے کر اللہ تعالیٰ واپس لے لے تو انسان اسے بہت زیادہ محسوس کرتا ہے۔تم دیکھ لو ہے ،مسلمانوں کی تعداد کم تھی تو اُس وقت ان کے صدمات بھی زیادہ نہیں تھے۔لیکن اب چونکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور انہوں نے ایک وقت تک طاقت اور قوت کی لذت بھی اٹھائی ہے اس لیے اپنی موجودہ رُسوائی کو دیکھ کر انہیں بہت زیادہ صدمہ محسوس ہوتا ہے۔وہ چین کو دیکھتے ہیں تو حسرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ چین ہمارا تھا۔وہ روس کو دیکھتے ہیں تو حسرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ روس ہمارا تھا۔وہ یورپ کو دیکھتے ہیں تو حسرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یورپ ہمارا تھا۔وہ اپنی گزشتہ شان و شوکت پر آنسو بہاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم کیا سے کیا ہو گئے۔یا تو ہم ساری دنیا پر حکمران تھے اور یا اب ہماری یہ حالت ہے کہ