خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 16

$1956 16 خطبات محمود جلد نمبر 37 حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے ہوں۔ایک دفعہ بچپن کے زمانہ میں میں نے ایک مضمون لکھا جس میں میں نے اس تھیوری کا ذکر کر دیا۔میں نے لکھا کہ خدا تعالی کی کئی قدرتیں ہیں جن کا ظہور اس دنیا میں وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔میں نے اُس وقت کسی قدر علم حیوانات کا مطالعہ کر لیا تھا اس لیے میں نے مثال دی کہ تجربہ سے پتا لگتا ہے کہ بعض جانور ایسے ہیں جو درمیان سے کٹ جائیں تو اُن کا ہر حصہ علیحدہ علیحدہ ترقی کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس پر حضرت خلیفہ امسیح الاول نے مجھے فرمایا میاں! تم ابھی بچے ہو تم ان باتوں میں مت پڑو۔لیکن اب جوں جوں سائنس ترقی کرتی جاتی ہے دنیا انہی باتوں کی طرف آ رہی ہے جو خدا تعالیٰ نے اور اس کے دیئے ہوئے علم کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آج سے کئی سال قبل بیان فرمائی تھیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کا واقعہ قرآن کریم میں موجود ہے مگر اس سے علماء نے یہ دھوکا کھایا کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو ایسا وجود قرار دے دیا جو باقی انبیاء سے ممتاز اور مس شیطان سے پاک تھا۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سارے انبیاء ہی مسّ شيطان سے پاک ہوتے ہیں۔پس حضرت مسیح علیہ السلام کو اس لحاظ سے دوسرے انبیاء پر کوئی امتیاز حاصل نہیں۔لیکن بعض مسلمان علماء نے اسے اچنبھے کی پیدائش قرار دے دیا اور عیسائیوں نے باپ پیدائش کو اُن کی خدائی کا ثبوت قرار دے دیا۔پھر بعض لوگ ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بن باپ پیدائش قانونِ قدرت کے خلاف ہے۔لیکن اب جو نئی رو چلی ہے وہ اُس بات کی تصدیق کرتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی تھی۔اور یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل اور نشان ہے کہ وہ دنیا کو آپ کی بیان فرمودہ صداقتوں کی طرف لا رہا ہے۔آپ نے فرمایا تھا:۔آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج 2 چنانچہ اب احرار یورپ میں سے کچھ تو آہستہ آہستہ اپنے بلند بانگ دعاوی کو چھوڑ رہے ہیں اور کچھ ان باتوں کو جو اس سے قبل انہیں غیر قدرتی نظر آتی تھیں قانون قدرت میں شامل کر کے مذہب کی طرف آ رہے ہیں۔گویا ثُمَّ دَنَا فَتَدَثْی 3 کی سی کیفیت پیدا