خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 271

خطبات محمود جلد نمبر 37 271 $1956 ނ ایسے رستوں سے دیتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔اب تو ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل بڑی ترقی کر گئی ہے اور ہماری مثال حضرت عائشہ والی ہو گئی ہے۔جب مدینہ میں پہلی دفعہ ہوائی چکیاں آئیں اور باریک آٹا پیسنے لگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ازواج مطہرات میں سے سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ آٹا تحفہ پیش کیا جائے۔چنانچہ مدینہ میں سب سے پہلے یہ آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر بھجوا دیا گیا اور اُس کے پھلکے تیار کیے گئے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ اس سے پہلے پتھر پر دانے کوٹ کر دلیہ سا بنا لیا جاتا تھا اور اس کی روٹی تیار کی جاتی تھی۔جب پہلی دفعہ نرم اور ملائم آٹے کی روٹی پکا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کی گئی تو آپ نے اس میں سے ایک لقمہ توڑ کر اپنے منہ میں ڈالا اور پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ گئے۔ایک عورت جو پاس بیٹھی ہوئی تھی وہ کہنے لگی بی بی! آپ روتی کیوں ہیں؟ روٹی تو بڑی ملائم اور نرم ہے اور ہم نے اس آٹے کی بڑی تعریف سنی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں اس لیے نہیں روئی کہ آٹا خراب ہے بلکہ مجھے اس روٹی کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آ گیا ہے۔ہم اس زمانہ میں دانوں کو پتھروں سے کچل کر دلیہ سا بنا لیتی تھیں اور اس کی روٹیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلایا کرتی تھیں۔آخری عمر میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضعیف ہو گئے تو آپ کے لیے روٹی چبانا بڑا مشکل ہو گیا تھا۔پس مجھے اس روٹی کو دیکھ کر رونا آگیا اور مجھے خیال آیا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی یہ چکیاں ہوتیں تو میں آپ کو اس آٹے کی روٹی پکا کر کھلاتی۔ہمارا بھی یہی حال ہے اب تو ہمارا صدرانجمن احمدیہ کا بجٹ چودہ پندرہ لاکھ کا ہے اور تحریک جدید کا بجٹ بھی بارہ تیرہ لاکھ کا ہو گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یہ کیفیت تھی کہ کئی مقامات پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہے کہ اب تو ہم پر اتنا بوجھ ہے کہ پندرہ سو روپیہ ایک مہینہ کا خرچ ہے۔گویا اُس زمانہ میں اٹھارہ ہزار روپیہ کا سالانہ خرچ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسے بڑا بوجھ قرار دیتے تھے۔لیکن اس زمانہ میں بعض ایسے احمدی ہیں کہ اُن میں سے ایک ایک اس بوجھ کو آسانی کے ا