خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 259

$1956 259 خطبات محمود جلد نمبر 37 پس اس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ وہ خدا آدم علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا اور وہ خدا نوح علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا اور وہ خدا ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا اور وہ خدا موسی علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا اور وہ خدا عیسی علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا اور وہ خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا اور وہ خدا ہمارے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا ہے اور وہ خدا بعد میں آنے والے لوگوں کا بھی خدا ہو گا۔اور جو خدا آدم علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا تھا اور ہمارے زمانہ کے لوگوں کا بھی خدا ہے اور بعد میں آنے والے لوگوں کا بھی خدا ہو گا صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک زندہ خدا ہے۔اگر وہ زندہ خدا نہ ہوتا تو آدم سے لے کر اب تک ہر زمانہ کے لوگوں کا وہ کس طرح خدا ہو سکتا ہے۔پس اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ قرآن جس خدا کو پیش کرتا ہے وہ ایک زندہ خدا ہے اور ہر زمانہ کے لوگ اس سے ویسا ہی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جیسے پہلے لوگ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔چنانچہ اس ہفتہ میں مجھے ایک مبلغ کی طرف سے ایک چٹھی آئی ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ کس طرح ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔اس کے بعد اپنا ایک ذاتی واقعہ اس کے ثبوت کے طور پر بیان کروں گا۔وہ لکھتے ہیں کہ ہم نے یہاں اخبار جاری کیا اور چونکہ ہمارے پاس کوئی پریس نہیں تھا اس لیے عیسائیوں کے پریس میں وہ اخبار چھپنا شروع ہوا۔دو چار پر چوں تک تو وہ برداشت کرتے چلے گئے لیکن جب یہ سلسلہ آگے بڑھا تو پادریوں کا ایک وفد اس پریس کے مالک کے پاس گیا اور انہوں نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اپنے پریس میں ایک احمدی اخبار شائع کر ہو جس نے عیسائیوں کی جڑوں پر تبر رکھا ہوا ہے۔چنانچہ اُسے غیرت آئی اور اُس نے کہہ دیا کہ آئندہ میں تمہارا اخبار اپنے پریس میں نہیں چھاپوں گا کیونکہ پادری اس پر بُرا مناتے جب اخبار چھپنا بند ہو گیا تو عیسائیوں کو اس سے بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے ہمیں جواب دینے کے علاوہ اپنے اخبار میں بھی ایک نوٹ لکھا کہ ہم نے تو احمدیوں کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے۔اب ہم دیکھیں گے کہ اسلام کا خدا ان کے لیے کیا سامان پیدا کرتا ہیں۔ہے۔