خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 254

خطبات محمود جلد نمبر 37 254 $1956 بشر سمجھتا ہے وہ کافر ہے۔اور پھر وہ کہتے ہیں کہ آپ کو علم غیب حاصل تھا۔حالانکہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اگر میں عالم الغیب ہوتا تو ساری ئیر اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچتی۔9 آخر سب لوگ جانتے ہیں کہ سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مخالفین کی طرف سے سینکڑوں حملے ہوئے۔یہاں تک کہ آپ کو اپنا شہر بھی چھوڑنا پڑا۔اور پھر آپ کے پیارے اور جاں نثار صحابہ آپ کے سامنے مارے گئے۔اگر آپ کو علم غیب ہوتا تو یہ واقعات کیوں ہوتے اور اتنی تکالیف آپ کو کیوں پہنچتیں؟ مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اس بات کا قائل نہیں کہ آپ عالم الغیب تھے وہ کافر ہے۔بلکہ کہتے ہیں کہ آج تک جس قدر واقعات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں ان سب کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہے۔یہاں تک کہ ایک ایسے ہی شخص کے سامنے جب رومی ٹوپی گھمائی گئی اور اُس کا پھندنا ہلا اور اُس۔پوچھا گیا کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا علم ہے کہ رومی ٹوپی کا پھند نا ملا ہے؟ تو وہ کہنے لگا ہاں ! آپ کو علم ہے اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔غرض مختلف زمانوں میں مختلف شکلیں بدلتی چلی گئیں۔کوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وہی لفظ استعمال کرتا تھا جو خدا نے استعمال کیے ہیں مگر دل میں وہ آپ کو جھوٹا سمجھتا تھا۔کوئی ایسا لفظ بولتا تھا جو بظاہر پسندیدہ ہوتا تھا مگر اندرونی طور پر اُس کا مقصد اس لفظ کے استعمال سے آپ کی تحقیر اور تنقیص کرنا ہوتا تھا۔اور کوئی وہ الفاظ استعمال کرتا ہے جو خدا نے نہیں کہے اور پھر دل میں بھی سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ جب انسان اگر نے لگتا ہے تو وہ گر کر کہاں سے کہاں چلا جاتا ہے۔اس کا علاج ایک ہی ہے کہ انسان سچے دل سے خدا تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 10 کہ خدایا! تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ورنہ انسان اپنی زبان سے سچے الفاظ نکالے تب بھی وہ اسے بعض دفعہ گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں اور اگر ناواجب تعریف اپنی زبان سے کرے تب بھی وہ اسے گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔اللہ ہی ہے جو انسان کو ہدایت دیتا ہے۔اگر اُس کا فضل انسان کے شامل حال ہو اور اُس کی