خطبات محمود (جلد 37) — Page 252
خطبات محمود جلد نمبر 37 252 $1956 دوسرے وہ لوگ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے الفاظ استعمال کرتے تھے جن کے متعلق وہ اپنے دل میں تو سمجھتے کہ ان کے بُرے معنے ہیں لیکن بظاہر وہ ایسے الفاظ ہوتے تھے جن سے مسلمان یہ سمجھنے لگ جاتے تھے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کر رہے ہیں۔اب اس زمانہ میں ایک تیسری قسم کے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو دل میں بھی سمجھتے ہیں ہم سچے ہیں اور لفظ وہ بولتے ہیں جو خدا نے نہیں بولے اور آپ کی ایسی تعریف کرتے ہیں جو درحقیقت آپ میں نہیں پائی جاتی اور پھر یقین رکھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر نہیں تھے یا کہتے ہیں کہ آپ کو کامل علم غیب حاصل تھا۔اس بارہ میں مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب ہم نے حضرت خلیفہ اول سے پڑھنا شروع کیا تو میرے ساتھ میر محمد اسحاق صاحب بھی شامل ہو گئے۔ہم دونوں اُس وقت بہت چھوٹی عمر کے تھے۔ان کی عمر کوئی دس سال کی تھی اور میری عمر بارہ سال کی تھی۔اُس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے صحابی کے ایک بیٹے ہوا کرتے تھے جو پرانی طرز کے مولوی تھے اور اُن کے خیالات بھی جاہلی مولویوں والے تھے۔کبھی بات ہوئی اور ہم نے کہنا کہ علم غیب تو خدا کو حاصل ہے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دینا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی عالم الغیب تھے۔ہمیں چونکہ بچپن سے ہی شرک کے خلاف تعلیم ملی تھی اس لیے ہم اُن سے بحث شروع کر دیتے۔میری طبیعت میں تو شرم اور ہچکچاہٹ تھی اس لیے میں لمبی بحث نہ کرتا مگر میر محمد اسحاق صاحب اُس کے پیچھے پڑ جاتے مگر وہ بار بار یہی کہتا کہ نہ نہ یہ نہ کہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم غیب حاصل نہیں تھا۔ایک دن میر محمد اسحاق صاحب نے اپنے سر سے ترکی ٹوپی اتاری اور اُسے چکر دیا۔جب انہوں نے ٹوپی گھمائی تو اُس کا پھندنا ہلا۔اُ اس پر انہوں نے پوچھا کہ بتاؤ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتا ہے کہ اس کا پھندنا ہلا ہے؟ کہنے لگا ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہے کہ اس کا پھندنا ہلا ہے۔اس پر ہ