خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 227

$1956 227 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہماری بیویاں بھی شامل ہوں گی اور ہمارے بچے بھی شامل ہوں گے۔ہم اپنی بیوی کو کہیں گے کہ میری اتنی آمدن ہے اگر تو نے خرچ کم کیا تو میں چندہ دے سکوں گا ورنہ نہیں۔اسی طرح ہم اپنے بچوں سے کہیں گے کہ تم ہمارے ساتھ تعاون کرو اور اخراجات کا کم مطالبہ کرو تاکہ چندہ دیا جا سکے۔اگر بیوی تعاون نہ کرے یا بچے تعاون نہ کریں تو چندہ میں حصہ لینے کی کوئی صورت نہیں رہتی۔پس ہر نیک کام کے لیے تیاری کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ہر نیک کام کے لیے ساتھیوں کا تعاون ضروری ہوتا ہے۔اگر وہ تعاون نہ کریں تو کوئی کام نہیں ہو سکتا۔مثلاً روزے رکھنا کتنا نیک کام ہے۔لیکن جب تک بیوی ساتھ نہ دے اور وہ سحری پکانے کے لیے تیار نہ ہو انسان کس طرح روزے رکھ سکتا ہے۔اسی طرح زکوۃ کو لو تب بھی ، چندوں کو لوتب بھی اور تبلیغ کو لوتب بھی ہر کام میں دوسروں کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ہماری جماعت میں بعض ایسے مبلغ ہیں جو فلسطین اور انگلینڈ وغیرہ میں دس دس سال رہے ہیں۔اسی طرح بعض مبلغ افریقہ میں گیارہ گیارہ بارہ بارہ سال رہے ہیں۔اگر اُن کی بیویاں اُن کے ساتھ تعاون نہ کرتیں یا ان بیویوں کے رشتہ دار اُن کے ساتھ تعاون نہ کرتے تو وہ کبھی دلجمعی کے ساتھ تبلیغ نہ کر سکتے۔ان کے لیے اطمینان کے ساتھ تبلیغ کرنا اسی لیے ممکن ہوا کہ ان کی بیویوں نے اور ان کے رشتہ داروں نے ان سے تعاون کیا۔پس ہر نیک کام کے لیے تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر تیاری ہو تو کام ہو سکتا ہے ورنہ اس میں کئی قسم کی مشکلات پیش آ جاتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ جہاد کا اعلان کیا۔یہ اعلان بالکل۔اچانک تھا کیونکہ یکدم دشمن کے حملہ کی خبر آئی تھی اور اس کے لیے زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ایک صحابی کچھ دنوں کے لیے باہر گئے ہوئے تھے۔اُن کے پیچھے ہی اسلامی لشکر جہاد کے لیے روانہ ہو گیا۔چند دنوں کے بعد وہ واپس آئے۔چونکہ انہیں اپنی بیوی کو دیکھے کئی دن گزر چکے تھے وہ سیدھے گھر پہنچے اور اپنی بیوی کے پاس اسے پیار کرنے کے لیے گئے۔اس نے انہیں دیکھتے ہی دھکا مار کر پرے پھینک دیا اور کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ خدا کا رسول اپنی ای جان دینے کے لیے باہر گیا ہوا ہے اور تمہیں اپنی بیوی سے پیار کرنے کی سوجھ رہی ہے۔