خطبات محمود (جلد 37) — Page 228
$1956 228 خطبات محمود جلد نمبر 37 وہ اُسی وقت گھوڑے پر سوار ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔اب دیکھو! اُن کو یہ نیکی کی توفیق اسی لیے ملی کہ اُن کی بیوی نے تعاون سے کام لیا۔اگر ان کی بیوی بے ایمان ہوتی تو وہ کہتی کہ تم تھکے ہوئے آئے ہوٹھہرو اور آرام کرو اور اس طرح وہ جہاد سے محروم ہو جاتے مگر اُس نے اپنے خاوند کو دھگا دے کر پرے کر دیا کہ شرم کرو خدا کا رسول اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر باہر گیا ہوا ہے اور تمہیں پیار کرنے کی سوجھی ہے۔یہ بیوی کی مدد ہی جس نے اُسے جہاد میں شامل کیا۔اور درحقیقت جب اُس نے جہاد کیا ہو گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ثواب میں اس کی بیوی کو بھی شریک کیا ہو گا کیونکہ اگر وہ اسے تحریک نہ کرتی تو وہ اس ثواب سے حصہ نہ لے سکتا۔اسی طرح اور بھی کئی واقعات حدیثوں میں بیان ہوئے ہیں۔ایک اور صحابی جن سے بول چال بند تھی اور جن کا قرآن کریم میں بھی ذکر آتا ہے اُن می کے متعلق بھی آتا ہے کہ اُن کی بیوی انہیں نصیحت کرتی رہتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ تم اس اس طرح کرو تو بیویاں اور بچے بھی انسان کے ساتھ اُس کی نیکی میں شریک ہوتے ہیں لیکن بعض دفعہ وہ اس کے لیے ٹھوکر کا بھی موجب بن جاتے ہیں۔اسی لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری بیویاں اور بچے تمہارے لیے آزمائش کا ایک ذریعہ ہیں۔6 یہ تمہاری ٹھوکر کا بھی موجب ہو سکتے ہیں اور تمہاری نیکیوں میں ترقی کا بھی موجب ہو سکتے ہیں۔پس اگر کسی کے دل میں نیکی کی کوئی تحریک اُٹھے تو اُسے اُس کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔اور تیاری کا بہترین طریق یہی ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو تیار کیا جائے۔اگر وہ تیار ہوں تو وہ اس کام کو کر لے گا اور اگر وہ تیار نہیں ہوں گے تو وقت پر وہ اس نیک کام میں حصہ لینے سے محروم الفضل 6 جون 1956ء) رہ جائے گا۔1 : الجمعة : 10 2 : صحیح مسلم کتاب المساجد باب استحباب إتيان الصلاة بوقار و سكينة والنهي عن إتيانها سعيًا۔3 : بنی اسرائیل : 20 4 : بخارى كتاب الجمعة باب فَضْلِ الْغُسُلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَبَاب يَلْبَسُ اَحْسَنَ مَا يَجِدُ