خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 211

$1956 211 خطبات محمود جلد نمبر 37 اُٹھا سکیں۔روزوں کا اکثر حصہ تو گزر چکا ہے اور جن کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی ہے وہ اس سے فائدہ بھی اٹھا چکے ہیں۔لیکن جو تھوڑا سا حصہ باقی ہے اس میں بھی روزوں اور دعاؤں کے ریعہ سے انہیں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔حضرت مسیح ناصری سے ایک دفعہ لوگوں نے سوال کیا کہ ہم دیو کیوں نہیں نکال سکے؟ درحقیقت یہ ان کی ایک اصطلاح تھی۔وہ بیماریوں اور مختلف قسم کی خرابیوں کو دیو کہا کرتے تھے اور حضرت مسیح ناصرتی کے پاس آکر کہا کرتے تھے کہ یہ دیو نکال دیں۔ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ بیماریاں یا خاص قسم کی دماغی خرابیاں نکال دی جائیں۔اسی قسم کے بعض بیمار تھے جن کا حضرت مسیح ناصری نے علاج کیا اور پھر اپنے حواریوں سے فرمایا کہ یہ دیو روزوں اور دعاؤں کے بغیر نہیں نکلتے۔2 یعنی کمالات روحانیہ کا حصول روزوں اور دعاؤں کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہی مسیح ناصری جنہوں نے یہ کہا تھا کہ بڑی بڑی بیماریاں روزوں اور دعاؤں کے بغیر نہیں جاسکتیں انہی کی امت آج روزوں سے اتنی بے خبر ہے اور وہ اتنا کھاتے ہیں کہ شاید ایشیائی ہفتہ بھر میں بھی اتنا نہیں کھاتے جتنا وہ ایک دن میں کھا جاتے ہیں۔پس انہوں نے روزہ کیا رکھنا ہے وہ تو روزوں کے قریب بھی نہیں جاتے۔سال بھر میں صرف تین دن ایسے ہوتے ہیں جن میں وہ روزہ رکھتے ہیں لیکن ہندوؤں کی طرح مانی جیسے وہ روزہ میں صرف چولھے کی پکی ہوئی چیز نہیں کھاتے۔مثلاً وہ پھل کا نہیں کھائیں گے لیکن دودھ دو دوسیر پی جائیں گے۔عیسائی بھی صرف چند چیزوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔باقی کی سب کچھ کھاتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ روزے ہو گئے حالانکہ حضرت مسیح یہودیوں میں سے تھے اور یہودیوں میں روزہ بڑا مکمل ہوتا ہے۔اور پھر حضرت مسیح خود مانتے ہیں کہ کئی قسم کے دیو یعنی روحانی یا جسمانی بیماریاں ایسی ہیں جو روزہ رکھنے والے کی دعا سے دور ہوتی ہیں اس کے بغیر نہیں ہوتیں۔بہر حال یہ دن ایسے ہیں جن کی فضیلت کسی ایک مذہب سے تعلق نہیں رکھتی۔بلکہ تمام مذاہب میں روزوں کی فضیلت تسلیم کی گئی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ مَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ