خطبات محمود (جلد 37) — Page 161
$1956 161 خطبات محمود جلد نمبر 37 ا ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا وہ گزشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ربوہ گئے تھے؟ انہوں نے کہ ہاں میں جلسہ کے موقع پر ربوہ گیا تھا۔اس پر انہیں کھلے میدان میں کھڑا کر کے گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔اس کے علاوہ 13 اور احمدیوں کے متعلق بھی خبر آئی تھی کہ انہیں شہید کر دیا گیا ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بات درست نہیں۔ان 13 احمدیوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ گو وہاں ہماری جماعت کی شدید مخالفت پائی جاتی ہے جس طرح یہاں بھی ہماری مخالفت کی جاتی ہے لیکن پھر بھی مسلمانوں میں کچھ نہ کچھ خداترسی ضرور پائی جاتی ہے۔چنانچہ گزشتہ فسادات کے دنوں میں مجھے کئی مثالیں ایسی معلوم ہیں کہ جب عوام نے جوش میں آکر احمدیوں کے مکانوں پر حملہ کرنا چاہا تو غیر احمدی عورتیں اُن کے مکانوں کے سامنے لیٹ گئیں اور انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں مار لو، پھر بیشک احمدیوں پر بھی حملہ کر لینا۔نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ شرمندہ ہو کر واپس چلے گئے۔پس بیشک مسلمانوں کے ایک طبقہ میں ہماری مخالفت پائی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اسلامی تعلیم کے نتیجہ میں ان میں خدا ترسی کے نظارے بھی نظر آتے رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو شہید کیا گیا اور ملک میں احمدیوں کے خلاف جوش پیدا ہو گیا تو کچھ احمدی وہاں سے بھاگ کر ہندوستان آگئے۔مجھے یاد ہے جب امان اللہ خان سابق شاہ افغانستان تخت پر بیٹھا تو اُس نے انگریزوں سے لڑائی کی اور اتفاق ایسا ہوا کہ اس لڑائی میں پٹھانوں کا پلہ بھاری رہا۔عام طور پر سمجھا جاتا تھا کہ انگریزوں کے مقابلہ میں پٹھانوں کی طاقت کچھ بھی نہیں۔لیکن میں نے اُن دنوں رویا میں دیکھا کہ اگر انگریزوں نے اس محاذ جنگ پر اپنے چوٹی کے افسر نہ بھیجے تو انہیں شکست ہو گی۔نادرشاہ جو موجودہ شاہ افغانستان کے والد تھے وہ افغان فوج کے جرنیل تھے۔انہیں خدا تعالیٰ نے توفیق دی اور انہوں نے کامیابی کے ساتھ انگریزوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا۔اتفاق کی بات ہے کہ اس لڑائی کے کچھ عرصہ بعد میں شملہ گیا تو وہاں گورنمنٹ آف انڈیا کے ہوم سیکرٹری نے مجھے چائے پر بلایا۔اُس وقت کے چیف آف دی جنرل سٹاف بھی ان کے ساتھ تھے۔باتوں باتوں میں میں نے انہیں اپنی رؤیا سنائی۔اس پر