خطبات محمود (جلد 37) — Page 141
141 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو فوراً اُسے تین ہزار روپیہ انعام دے دیا جایا کرے۔بادشاہ نے خوش ہو کر زہ کہا تو وزیر نے فوراً تین ہزار روپے کی تھیلی اُس بڑھے کے سامنے رکھ دی۔وہ روپوں کی تھیلی اپنے ہاتھ میں لے کر کہنے لگا بادشاہ سلامت! لوگ درخت لگاتے ہیں تو کئی کئی سال کے بعد انہیں اس کا پھل کھانا نصیب ہوتا ہے مگر مجھے دیکھیے کہ میں نے درخت لگاتے لگاتے اس کا پھل کھا لیا۔بادشاہ پھر اُس کی بات سے خوش ہوا اور کہنے لگا زہ۔اس پر وزیر نے جھٹ ایک دوسری تحصیلی اس کے سامنے رکھ دی۔یہ دیکھ کر بڑھا کہنے لگا حضور ! آپ تو کہہ رہے تھے کہ تو مر جائے گا اور اس درخت کا پھل نہیں کھا سکے گا۔مگر دیکھیے لوگ تو کہیں سال میں ایک دفعہ درخت کا پھل کھاتے ہیں اور میں نے اس درخت کے لگاتے لگاتے دو دفعہ اس کا پھل کھا لیا۔بادشاہ پھر اس کی بات سے خوش ہوا اور کہنے لگا زہ۔اس پر وزیر نے فوراً ایک تیسری تحصیلی اُس کے سامنے رکھا دی۔اس کے بعد وزیر کہنے لگا بادشاہ سلامت! یہاں سے چلیے ورنہ اس بڑھے نے تو ہمیں کوٹ لینا ہے۔یہی مثال شادی بیاہ کی ہے۔جو شخص شادی بیاہ کرتا اور پھر اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کرتا ہے وہ دنیا میں نیکی اور تقوی کی بنیاد رکھتا ہے۔اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس نے بہیمیت اور بداخلاقی کی بناء پر ان تعلقات کو قائم کیا ہے بہت بڑی نادانی اور حماقت ہے۔دنیا میں جتنے اولیاء اللہ گزرے ہیں سب انہی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں، جتنے موجد اور سائنسدان گزرے ہیں سب انہی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔مثلاً نیوٹن کو ہی لے لو اگر اُس کے ماں باپ آپس میں نہ ملتے تو نیوٹن کس طرح پیدا ہوتا ؟ پھر جب ان کے تعلقات کے نتیجہ میں نیوٹن جیسا انسان پیدا ہو گیا تو ان تعلقات کی بناء بہیمیت پر کس طرح ہوئی؟ اسی طرح دنیا میں جتنے بڑے بڑے جرنیل گزرے ہیں سب انہی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔نپولین کو لے لو، ہٹلر کو لے لو اگر ان کے ماں باپ بھی یہ کہتے کہ ہم ان تعلقات کو اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی بنیاد بہیمیت پر ہے تو نپولین اور ہٹلر کہاں سے پیدا ہوتے۔اسی طرح جتنے بڑے بڑے آئمہ گزرے ہیں سب انہی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔حضرت امام ابوحنیفہ حضرت امام شافعی ، حضرت امام مالک، حضرت امام احمد بن حنبل