خطبات محمود (جلد 37) — Page 140
$1956 140 خطبات محمود جلد نمبر 37 رھیں گے۔تو تربیت اولاد ثابت کر دیتی ہے کہ مرد و عورت کا اختلاط بہیمیت کی بناء پر نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور تقوی کو قائم کرنے کے لیے ہے۔پس جو شخص اس فرض کو بجا لاتا ہے اور اپنی اولاد کی نیک تربیت کرتا ہے وہ درحقیقت تمام مذاہب سے اس اعتراض کو دور کرتا ہے کہ ان مذاہب نے مرد و عورت کے تعلقات کی اجازت دے کر بہیمیت کو قائم کیا ہے۔دنیا میں اس وقت جس قدر مذاہب پائے جاتے ہیں ان میں سے بعض نے تو شادی بیاہ کو پسند کیا ہے اور بعض نے شادی نہ کرنے کو اچھا فعل قرار دیا ہے۔عیسائیت نے شادی نہ کرنے کو اچھا قرار دیا ہے اور یہودیت نے شادی بیاہ کرنے کو پسند کیا ہے۔لیکن اگر کوئی شادی نہ کرے تو یہودیت اُسے ملامت نہیں کرتی۔لیکن اسلام نے شادی بیاہ کرنے کو اچھا ہی قرار نہیں دیا بلکہ شادی بیاہ نہ کرنے کو سخت ناپسند قرار دیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا ہے کہ جس شخص نے شادی نہ کی اور وہ اسی حالت میں مر يا فَهُوَ بَطَّالٌ۔اُس نے اپنی عمر کو ضائع کر دیا۔کیونکہ ایک اعلیٰ درجہ کی نیکی کا بیج اُس نے نہ بویا اور آنے والی دنیا کئی فوائد سے محروم ہو گئی۔در حقیقت شادی بیاہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بڑھا ایک ایسا درخت لگا رہا تھا جو کئی سال کے بعد پھل دیتا تھا۔اتفاقاً وہاں سے اُس ملک کا بادشاہ گزرا۔اس نے بڑھے کو ایک ایسا درخت لگاتے دیکھا جس کا پھل کئی سال کے بعد پیدا ہونا تھا تو وہ اُسے کہنے لگا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ تمہاری عمر اسی نوے سال کی ہو گئی ہے اور تم ایسا درخت لگا رہے ہو جو کئی سال کے بعد پھل دیتا ہے۔کیا تمہیں یہ امید ہے کہ تم اس کا پھل کھاؤ گے ؟ وہ کہنے لگا بادشاہ سلامت! اگر ہمارے باپ دادا بھی یہی خیال کرتے اور وہ اپنی زندگیوں میں پھلدار درخت لگا کر نہ جاتے تو آج ہم کہاں سے پھل کھاتے ؟ انہوں نے درخت لگائے اور ہم نے ان کا پھل کھایا۔آج ہم درخت لگائیں گے تو ہمارے پوتے پڑپوتے ان کا پھل کھائیں گے۔بادشاہ کو اُس کی یہ بات بڑی پسند آئی اور اُس نے کہا زہ۔یعنی تو نے کیا ہی اچھی بات کہی ہے۔اور بادشاہ کا یہ حکم تھا کہ جب میں کسی کی بات سے خوش ہو کر زہ کہہ دوں